کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیمویٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور کی ہدایت پر سٹی وارڈن کو سینیارٹی اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے معاملے پر خرم لاکھانی کے توسط سے سندھ ہائیکورٹ میں دائر کردہ آئینی درخواست نمبر 787/2022 کی سماعت جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ پاسبان کے وکیل خرم لاکھانی ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کے ایم سی کے حکام نے ماضی میں دائر کردہ آئینی درخواست 1788/2019 کے نتیجے میں کنٹریکٹ سٹی وارڈن کو ریگولرائز کیا تھا لیکن ان سٹی وارڈنز کو مستقلی کے جاری کردہ لیٹر کنٹریکٹ کا دورانیہ شامل نہیں کیا گیا تھا جبکہ سٹی وارڈن 2007 اور 2009 سے کنٹریکٹ کی بنیادوں پر اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیتے آرہے تھے۔ ان ملازمین کی ریگولرائزیشن میں کنڑیکٹ کا دورانیہ شامل نہ کرکے کے ایم سی حکام نے بدنیتی کا ثبوت دیا ہے جبکہ مستقل ہونے والے سٹی وارڈن کی بقیہ تنخواہیں بھی روکی گئی ہیں۔
کے ایم سی کے وکیل نے معزز عدالت سے اس معاملے پر جواب طلب کرنے کے لئے چار ہفتے کی مہلت مانگی جس پر پاسبان کے وکیل خرم لاکھانی جانب سے زائد وقت نہ دینے کی استدعا پر معزز عدالت نے کے ایم سی کے وکیل کو دو ہفتے میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔ سٹی وارڈن نے پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور اور دیگر ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاسبان نے ہی ہمیں مستقلی کا حق دلوایا اور ہم مظلوم ملازمین کو ایک بار پھر حق دلانے کے لئے عملی جدوجہد کررہی ہے۔