تازہ ترین
Home / اہم خبریں / کارزویل جیل جہاں عافیہ مقید ہے، کرونا وائرس پھیل چکا ہے، سندھ ہائی کورٹ میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے جواب جمع، آئندہ سماعت 15 مئی کو ہوگی

کارزویل جیل جہاں عافیہ مقید ہے، کرونا وائرس پھیل چکا ہے، سندھ ہائی کورٹ میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے جواب جمع، آئندہ سماعت 15 مئی کو ہوگی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی ہمشیرہ اور عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے اپنے وکیل عرفان عزیز کے توسط سے سندھ ہائیکورٹ میں وفاقی حکومت کی جانب سے گذشتہ سماعت میں جمع کرائے گئے جواب پر پیراوائز اعتراضات پیش کردئیے ہیں جس کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی جس جیل میں مقید ہیں وہاں کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، مسٹر جسٹس محمد علی مظہر اور مسٹر جسٹس یوسف علی سعید پر مشتمل بینچ نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی آئینی درخواست کی سماعت کی۔ جواب میں عرض کیا گیا ہے کہ پیرا نمبر 1 سے 9 تک کا جواب نہ دے کر مدعا علیہ یہ ظاہر کرچکے ہیں کہ انھیں اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اورنہ ہی ماضی میں انھوں نے کوئی کام کیا ہے اور وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کیلئے کوئی کام نہ ہونے کی وجہ سے جواب دہندگان کے پاس پیش کرنے کیلئے کوئی مواد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 4 کے تحت حکومت کا فرض ہے کہ وہ پاکستانی شہری جہاں بھی قیام پذیر ہوں کے وقار اور زندگی کی حفاظت کرے۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزار پہلے ہی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ بدسلوکی، ان کے وقار، جسم اور ذات کی بے حرمتی کرنے اور امریکی حکام کی جانب سے قرآن مجید کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کے بارے میں ان کی گفتگو اور پیغام پیش کرچکا ہے اور جس پر پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی کاروائی اور رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا اور انہوں نے کبھی بھی قانون سے بالاتر، غیر قانونی اور ناجائز کاروائی کے بارے میں امریکی حکام کے سامنے آواز نہیں اٹھائی اور نہ ہی احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ ” ضمیر کے قیدی“ کے تمام بین الاقوامی معیار پر پورا اترتا ہے، جسے عام طور پر سیاسی قیدی کہا جاتا ہے اور اس میں حکومتوں کی جانب سے سیاسی اور سفارتی اقدامات کی ضمانت دی جاتی ہے اور فوری طور پر ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ انسانی حقوق کا ہے اور یہ ایک عالمی سطح پر قبول شدہ حقیقت ہے اور اسے غیر متعلق نہیں قرار دیا جاسکتا۔ مدعا علیہان نے اعتراف کیا ہے کہ درخواست گزار کے معاملے میں جیل حکام کی بدتمیزی اور بدسلوکی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ عافیہ کو سختی کے ساتھ رکھا جارہا ہے اور انہیں شدید جسمانی اور ذہنی اذیتیں بھی دی جاتی ہیں جو انسانی تصورات سے بالاتر ہیں۔ درخواست گزار نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا کو بغیر کسی علاج اور ادویات کے کورونا وبائی مرض کا سامنا ہے۔ سی این این نے حال ہی میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی جیلوں میں کورونا کی وباء پھیل رہی ہے جس کی روک تھام یا احتیاطی تدابیر بھی نہیں ہیں۔ اس وبائی بیماری سے سینکڑوں ہلاکتوں کی توقع ہے۔ درخواست گزار، اس کی فیملی اور پوری پاکستانی قوم اس خبر سے سخت پریشان ہے کیوں کہ قوم کی بیٹی کی جان کو اس وباء سے خطرہ ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے جواب میں مزید کہا کہ آئین پاکستان اس بات پر زور دیتا ہے کہ پاکستان کا ہر شہری زندگی، آزادی، صحت اور منصفانہ سماعت کا حقدار ہے اور اس کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جانا چاہئے، مگر عافیہ کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ آئینی پٹیشن 2144/2020 کی آئندہ سماعت 15 مئی کو ہوگی، واضح رہے کہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عرفان عزیز ایڈووکیٹ چند ناگزیر حالات کی وجہ سے عدالت میں حاضر نہ ہو سکے لہٰذا پٹیشن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے جواب الجواب خود عدالت میں پیش کیا۔

 

یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: وینزویلا کے صدر کا تختہ الٹنے کی کوشش ناکام، 8 حملہ آور ہلاک
https://www.nopnewstv.com/attempt-to-overt…zuelan-president/ ‎

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے