ٹوبہ ٹیک سنگھ سے سینئر صحافی بھائی طارق سعید نے آج قدرت اللہ شہاب کے حوالہ سے ایک واقعہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپ لوڈ کیا ہے۔۔۔ دوستوں کی بھی نزر ہے۔۔۔
"ایس ایچ اوز کو ایک تھانے سے دوسرے تھانے میں ٹرانسفر ہونے پر مبارکباد دینے والوں کا اگلے جہان میں الگ مقام ہوگا۔۔۔ لیکن جو پھول اور گلدستے دیتے ہیں وہ ان سے بھی اوپر ہونگے، قدرت اللہ شہاب جب ڈی سی جھنگ بن کر آئے تو ایک بریف کیس لیکر ڈائریکٹ ڈی سی آفس پہنچ گئے، جس پر سنتری نے انہیں اندر نہ جانے دیا شہاب نے درخواست کی کہ مجھے ڈی سی صاحب سے ملنا ہے تو اس نے کہا جاؤ میاں کام کرو ایسے تھوڑی ہے کہ ہر بندہ مُنہّ اٹھا کے آجائے اور ڈی سی صاحب سے مل لے، شہاب نے مزید لطف اندوز ہوتے ہوئے کہا یار میں یہاں نیا آنے والا ڈی سی ہوں، تو سنتری نے سر سے پاؤں تک دیکھ کے قہقہ لگایا اور کہا ڈی سی صاحب جب دفتر میں نہ ہوں تو میں بھی خود کو ڈی سی ہی سمجھتا ہوں، خیر جب موجودہ ڈی سی کو پتہ چلا تو وہ خود باہر لینے آگیا اور اس نے کہا شہاب صاحب آپ کیسے آئے ہیں آپکا سامان کہاں ہے انہوں نے کہا بس یہی بریف کیس اور ٹرین پہ آیا ہوں، تو موجودہ ڈی سی نے کہا آپ نے مدتوں سے بنی روایت توڑ دی پہلے جب کوئی ڈی سی آتا تھا تو شہر کے امرء، رؤسا اور نواب اپنے گھوڑوں اور کتوں کے ساتھ اسٹیشن پہ کھڑے ہوتے تھے ڈھولوں کے تھاپ اور پھولوں کی چھاؤں میں سرکٹ ہاؤس تک لایا جاتا تھا اور پتا چلتا تھا کہ آج ڈی سی آیا ہے۔۔۔ پاکستان کی عمر 78 سال ہو گئی ہے زمانہ بدل گیا مگر اضلاع کی روایت وہیں کھڑی ہے،
کوئی ایس ایچ او ڈی پی او یا ڈی سی تحصیلدار پبلک نوکر ادھر سے اُدھر ہو جائے تو فیس بک پہ ایک ہفتہ کہرام مچ جاتا ہے۔۔۔۔۔”
ٹاوٹ ، لفافہ صحافی اور دھندا کرنے والے لوگوں کا گلدستوں اور مالا پہنانے کے لیے تانتا بندھ جاتا ہے۔
میں نے گذشتہ دو ہفتوں میں یہ تماشا بھی دیکھا ہے کہ کسی بھی پولیس ملازم کی محکمانہ ترقی ہونے پر مبارکباد کا وہ سلسلہ شروع ہو گیا جیسے پاکستان میں اسلام نافذ اور انصاف ملنے کا آغاز ہو گیا ہو۔۔۔ جیسے پاکستان میں مہنگائی ختم ہوگئی ہو۔۔۔ جیسے بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات سے ظالمانہ ٹیکسز کا خاتمہ ہو گیا ہو ۔۔۔۔ لیکن نہیں نہیں ۔ ہر گز نہیں ۔۔ یہ تو چھوٹے سے پولیس ملازم کی محکمانہ ترقی پر جشن منایا جا رہا تھا۔ ترقی پانے والے ملازم کو مبارک بادیں اور پھولوں کے گلدستے دینے والوں میں کوئی معزز شہری نہیں تھے۔ سب ٹاؤٹ تھے۔۔۔ جن کا روزانہ کہ بنیاد پر ان پولیس ملازمین سے ملنا جلنا ہوتا ہے ۔ ظاھر ہے کہ وہ ان پولیس ملازمین سے کام لیتے ہونگے ۔ یہ مبارک بادیں دینے والے دلال، ٹاؤٹ اور شاپر صحافی ہوتے ہیں۔۔۔ جن کا کام بلیک میلنگ کے سوا کوئی دھندا نہیں ہے ۔ ترقی کرنے والے پولیس ملازمین تو ان لوگوں کو نہیں کہتے کہ ہماری ترقی پر پھولوں کے گلدستے پیش کیے جائیں اور سوشل میڈیا پر پوسٹوں کی بھرمار کی جائے۔ میں نے یہ نہیں دیکھا کہ کسی چھوٹے پولیس ملازم کو ترقی ملنے پر آر پی او، ڈی پی، یا ڈی ایس پی نے پریس کانفرنس بلا کر انہیں پھول دئیے ہوں۔ البتہ پولیس ملازمین کی اعلیٰ کارکردگی پر پولیس افسران انہیں اپنے دفاتر میں بلا کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یہ محکمانہ نظام ہے اور ان محکموں کو ہی زیب دیتا ہے۔
دیکھا گیا ہے کہ اب محکمہ پولیس کے علاوہ دیگر محکموں کے افسران کی محکمانہ ترقی اور ٹرانسفر پر دلال ٹاؤٹ اور لفافہ صحافی اپنی خدمات سر انجام دیتے دیکھے جاسکتے ہیں۔
لفافہ صحافی کی پہچان یہ بھی ھے کہ وہ عوام کے کسی مسائل پر نہیں لکھے گا۔ تمام محکموں میں عوام روزانہ ذلیل و خوار ہوتی ہے لیکن یہ لفافہ صحافی اس موضوع پر کوئی خبر نہیں لکھے گا۔ عوام مہنگائی غربت بے روزگاری کے ہاتھوں خودکشیاں کر رہی ہے لیکن یہ لفافہ صحافی اس سلگتے موضوع پر خاموش رہے گا۔ بلکہ افسران سے خوشگوار ملاقاتیں کرے گا تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرے گا تاکہ شہر میں اس کا دبدبہ رہے کہ میرے تمام افسران سے دوستانہ ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ صحافی کا کام افسران سے خوشگوار ملاقاتیں کرنا تصاویر بنوانا اور کھانے کھانا تو ھرگز نہیں ہے۔ صحافی تو معاشرے کا عکاس ہوتا تھا ۔۔ صحافی نے تو مسائل کی بات کرنی ہوتی تھی ۔۔۔ صحافت میں یہ خوشگوار ملاقاتوں کی کیا وقعت ہے۔
پاکستان میں جس طرح پراپرٹی ڈیلر، میرج بیورو کے لیے کوئی سرکاری قوانین و قواعد و ضوابط نہیں ہیں بالکل اسی طرح پاکستان میں صحافی بننے کے لیے کوئی تعلیم عمر کردار کی کوئی شرط نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت جیسے مقدس شعبہ میں اب بدکردار دلال ٹاوٹ اور ہر طرح کے جرائم پیشہ افراد آ گئے ہیں۔ اب صحافت کو سرکاری افسران سے تعلقات اور اپنے دو نمبر کاموں کو چھپانے کے لیے صحافت کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ آپ غور کریں کہ کھربوں پتی کاروباری شخص کا لاھور کے ایک روزنامہ اخبار کی نمائیندگی لینے کا کیا جواز بنتا ہے۔ اس کاروباری شخص کے پاس تو اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ عوام کے مسائل کے لیے علاقے میں گھومے پھرے اور ٹوٹی پھوٹی گلیوں نالیوں اور گٹروں کی تصویریں بنائے۔ ایک میڈیکل سٹور والے کو صحافی بننے کا کیا فائدہ ہے جس نے کبھی بھی عوام کے مسائل پر بات نہیں لکھنی۔پاکستان میں بڑے بڑے ریسٹورنٹ کے مالکان بھی اخبارات کے نمائندے ہیں۔ ان لوگوں نے پاکستان میں صحافت کی بے توقیری کی ہے۔ اس وقت صحافت میں ان پڑھ انگوٹھا شاپ صحافیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ صحافت میں گندگی اس حد تک بھی پہنچ چکی ہے کہ پاکستان میں جسم فروش خواتین کے پاس بھی پریس کارڈ ہیں۔ پاکستان میں تو بدکردار لوگوں نے صحافیوں کا روپ دھار کر بدکردار خواتین پر مشتمل ٹولے بنا رکھے ہیں جو شریف شہریوں کو بلیک میل کرتے ہیں۔ اس کی بےشمار مثالیں اور واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اب پنجاب پولیس نے ایسے ٹولوں کے خلاف اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ جو قابل تحسین ہیں۔
پاکستان میں کسی اخبار یا رسالہ کا ڈیکلریشن لینے کے لیے گورنمنٹ نے قواعد و ضوابط بنائے ہوئے ہیں جو کہ انتہائی سخت ہیں۔ ڈیکلریشن کے ایم اے تعلیم، صحافتی تجربہ، ذاتی رہائش، ذاتی کاروبار ، مختلف انٹیلیجنس ایجنسیوں سے خفیہ رپورٹ وغیرہ شامل ہے جبکہ علاقائی رپورٹر بننے کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔ اخبارات و چینلز کے مالکان علاقائی رپورٹر بنانے کے لیے سودے بازی کرتے ہیں۔ اخبارات و چینلز والے سالانہ فنڈ کبھی خصوصی ایڈیشن کے نام پر کبھی اشتہارات کی صورت میں لیتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ علاقائی نمائندہ بلیک میلنگ اور دیگر حربوں سے مال بناتا ہے۔
میری ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن پاکستان سے استدعا ہے کسی علاقہ میں نمائندہ بنانے کے لیے قوانین بنائیں جس میں تعلیم عمر اور کردار کے علاوہ بھی سخت شرائط رکھی جائیں۔ اخبارات و چینل کے مالکان کو بھی ان قوانین پر عمل کرنے کے لیے پابند کیا جائے۔ علاقائی نمایندگی کے لیے اس شہر سے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے علاوہ شہر کی چند سماجی کاروباری اور دینی تنظیموں سے بھی اس شخص کی رپورٹ لی جائے۔ تب اسے کسی اخبار یا چینل کا رپورٹر بنایا جائے۔ اس اقدام سے 95 فی صد علاقائی رپورٹر صحافت سے آؤٹ ہو جائیں گے۔ اور عوام کو سکھ کا سانس نصیب ہو گا ۔۔۔
Tags پاکستان پنجاب ڈاکٹر غلام مرتضیٰ صوفی محمد ضیاء شاہد کمالیہ