کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سندھ حکومت کی جانب سے کراچی میں 35ویں نیشنل گیمز کی تیاریوں اور پرائم منسٹر یوتھ گیمز میں سندھ کی شرکت کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر کھیل و امورِ نوجوانان سردار محمد بخش مہر نے سندھ سیکریٹریٹ میں کی۔
اجلاس میں سیکریٹری کھیل منور علی مہیسر، ڈائریکٹر اسد اسحاق، سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری احمد علی راجپوت سمیت متعلقہ افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں کھلاڑیوں اور آفیشلز کے سامان اور لوگو کے فائنل ڈرافٹ پیش کیے گئے جن کی منظوری دے دی گئی۔
وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ نیشنل گیمز کے انتظامات اور ڈرافٹ کی حتمی منظوری وزیراعلیٰ سندھ سے لی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت 6 تا 13 دسمبر کراچی میں 35ویں نیشنل گیمز کی میزبانی کرے گی۔ ایونٹ سے 20 روز قبل ٹارچ ریلی نکالی جائے گی جبکہ افتتاحی تقریب چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری انجام دیں گے۔
سردار محمد بخش مہر نے مزید کہا کہ سندھ کی ٹیم کا ہدف زیادہ سے زیادہ گولڈ میڈلز جیتنا ہے۔ کھلاڑیوں کی سلیکشن مکمل طور پر میرٹ پر ہوگی اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی۔ نیشنل گیمز میں شریک کھلاڑیوں کے ٹرائلز کے لیے کمیٹی میں محکمہ کھیل کے ڈسٹرکٹ اسپورٹس افسران بھی شامل ہوں گے۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ نیشنل گیمز کی بھرپور پروموشن کے لیے سوشل میڈیا سمیت کراچی کی تمام اہم شاہراہوں پر تشہیری مہم شروع کی جائے۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے جنرل سیکریٹری سندھ اولمپک ایسوسی ایشن احمد علی راجپوت نے بتایا کہ ایونٹ کے لیے ایک ہزار گولڈ اور سلور میڈلز تیار کرالیے گئے ہیں جبکہ ٹارچ، جنرل ٹرافی، شرٹس اور دیگر انعامی اشیاء بھی مکمل کر لی گئی ہیں۔ صوبوں سے شریک کھلاڑیوں کے ٹرائلز 20 سے 30 اکتوبر تک ہوں گے۔
سیکریٹری کھیل منور علی مہیسر نے بتایا کہ نیشنل گیمز میں سندھ کے 700 سے زائد اور دیگر صوبوں کے 500 سے زیادہ مرد و خواتین کھلاڑی حصہ لیں گے۔ کھلاڑیوں کو رہائش، سفری سہولیات اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
اسی دوران پرائم منسٹر یوتھ گیمز کے حوالے سے بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا جو اسلام آباد میں 7 تا 13 ستمبر تک منعقد ہوں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ کے 365 کھلاڑی ان گیمز میں بھرپور شرکت کریں گے۔ اس ایونٹ میں ایتھلیٹکس، بیڈمنٹن، باکسنگ، ہاکی، سوئمنگ، کبڈی سمیت 16 کھیل شامل ہیں جبکہ کھلاڑیوں کے ٹرائلز تقریباً مکمل ہو چکے ہیں۔