Home / اہم خبریں / بلاول زرداری واشنگٹن میں "میں ہوں نہ ” کی شوٹنگ کے لیے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر شہباز گل

بلاول زرداری واشنگٹن میں "میں ہوں نہ ” کی شوٹنگ کے لیے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر شہباز گل

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ترجمان وزیراعظم و معاون خصوصی براۓ سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل ہفتے کے روز کراچی میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی رہائشگاہ پہنچے، حلیم عادل شیخ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو تقریر کرنے نہیں دی گئی اسمبلی میں اپوزیشن ممبران کو داخلے سے روکا گیا ہم نے وفاقی سطح پر اس معاملے پر احتجاج کیا بہت جلد ہم اس کے رزلٹس بھی آپ کو دکھائیں گے اور اب ایسا نہیں چلے گا جس طرح بجٹ کو پاس کروایا گیا وہ بھی آپ سب کے سامنے ہے سندھ حکومت کو حلیم عادل شیخ سے بہت زیادہ تکلیف ہے کیونکہ وہ سندھ حکومت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء حاجی مظفر شجراع، نعیم عادل اور دیگر بھی موجود تھے ایک بچہ جو کھیل کود رہا تھا وہ ابھی بھی کھیل کود رہا ہے اچانک ایک ناگہانی آفت جس میں ان کی والدہ کی شہادت ہوگئی محترمہ شہید کی شہادت پر ہم غم زدہ ہیں اور ان کے لیے دعاگو ہیں ان کی شہادت کے بعد ایک اچانک پرچی نکلی اور اس کے اندر ایک چیئرمین نکلا اور بتایا گیا کہ چیئرمین کے کھیلنے کودنے کے دن ہیں اس لیے کوئی اور چیئرمین ہوگا باقی پاکستان تو غلام ہے اس لیے ایک اور چیئرمین ہوگا پرچی چیئرمین نے پاکستان میں ہر جگہ پر اپنی سی وی دے چکے سی وی پر ایک لائن لکھی ہوئی اور وہ صرف صفر لکھا ہوا تھا کیونکہ انہوں نے کبھی کہیں کوئی کام نہیں کسی ادارے میں ملازمت نہیں کی بلاول زرادری نے کبھی کسی کافی شاپ پر چائے کا کپ نہیں بیچا کبھی کہیں ڈاکیے یا وکیل نہیں رہے کبھی ایک گھنٹے کی بھی محنت نہیں کی اور وہ پاکستان کے وزیراعظم بننے نکلے ہیں جس کے لیے انہوں نے ہر جگہ پر سی وی دے دی اور ہر جگہ سے ناکام ہوگئے ناکامی کے بعد اب وہ پورے ٹبر کے ساتھ وہی سی وی لیکر اپنا منجن بیچنے واشنگٹن جا رہے ہیں ایک طرف ملک کا وزیر اعظم ہے جو ڈرون حملوں کے خلاف نکلا جس نے ابھی بھی اڈوں کے حوالے سے کہا ابسلیوٹلی ناٹ بالکل نہیں دیں گے، پیپلز پارٹی سارا کھاتہ مشرف کے زمانے پر ڈال دیتے ہیں کونڈا لیزا رائیس کی کتاب میں وہ خود بتا رہی ہیں آمریکا کے مفادات کی سودے بازی کے لیے انہوں نے مشرف اور بینظیر کے درمیان ڈیل کروائی کتاب بہت پہلے چھپ چکی ہے اس کتاب پر کوئی متنازعہ بیان نہیں دیا گیا اور نہ اسے کہیں چیلنج کیا گیا کہ اس کتاب میں جھوٹ لکھا ہوا اس ڈیل کا نتیجہ یہ نکلا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں 340 ڈرون اٹیک ہوئے مشرف کے دور میں 13 ڈرون اٹیک اور مسلم لیگ کے زمانے میں 61 ڈرون حملے ہوئے ڈرون حملے کیوں ہوئے وہ وکی لیکس میں آچکا ہے جسے بھی کسی نے چیلنج نہیں کیا ریمنڈ بیکر کی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ یہ معاہدے کیوں کیے یہ ساز باز اس لیے کی گئی کہ ان کی منی لانڈرنگ کا پیسہ جو ایان علی کے ذریعے باہر جاتے تھے اسے تحفظ دینا تھا بلاول زرداری واشنگٹن میں تمام متولیوں کے ساتھ یہ کہنے کے لیے جارہے ہیں کہ عمران خان سے آپ نے اڈے مانگے تو انہوں نے آپ کو منع کیا تو میں ہوں نہ میں آپ کو اڈے دوں گا عمران خان نے کہا ابسلیوٹلی ناٹ لیکن میں ہوں نا وائی ناٹ، بلاول کہنے جارہے ہیں کہ مجھے نوکری دیں میں سب کچھ کروں گا وائی ناٹ آپ ہمیں حکومت میں لائیں ہم سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہیں بلاول نوکری کی عرضی لیکر جارہے ہیں واشنگٹن میں بلاول "میں ہوں نا "کی شوٹنگ کے لیے جا رہے ہیں لیکن بلاول کو بتا دیں کے اب ملک کا وزیر اعظم عمران خان ہے اب ملکی مفادات اور قوم بدل چکی ہے اب آپ لوگوں کی ایسی کی تیسی اب ایسی ڈیلیں نہیں کرنے دیں گے اب مادر وطن کے انٹریسٹ کو کسی کو بیچنے نہیں دیں گے ہم دنیا کے ہر ملک کے ساتھ امن کے لیے ساتھ کھڑے ہیں امن کے لیے کوئی بھی ایک قدم بڑھائے گا ہم دس قدم بڑھائیں گے وزیراعظم نے واضع کیا کہ اگر افغانستان میں امن ہوگا تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا جس کو افغانستان کی عوام اپنائیں گے ہم انہیں ویلکم کہیں گے لیکن بلاول زرداری جو عرضیاں لیکر واشنگٹن جا رہے ہیں وہ ہم ہونے نہیں دیں گے پیپلز پارٹی نے سندھ میں اپوزیشن کو پبلک کمیٹی، پارلیمانی کمیٹی میں کسی قسم کی کوئی نمائندگی نہیں دی اور نہ یہ اپوزیشن لیڈر کو بولنے دیتے ہیں میں وفاقی پارلیمینٹرین سے درخواست کروں گا کہ بلاول جس کمیٹی میں ہیں انہیں نکالا جائے اور جو بھی پیپلز پارٹی کا نمائندہ کمیٹی میں ہے ان سب کو فوری نکالا جائے جب تک یہ سندھ میں اپوزیشن کو کمیٹیوں میں شامل نہیں کرتے جو سلوک یہ یہاں کر رہے ہیں ویسا ہی سلوک ان کے ساتھ رکھا جائے فواد چوہدری نے دن رات لگاکر میڈیا کے بقایاجات ادا کر دیے ہیں 70 کروڑ کے بقایاجات ادا کر دیے گئے ہیں میڈیا مالکان اب ملازمین کی تنخواہیں ٹائم پر اور کورونا میں کٹوتیاں بھی ادا کریں، صحافیوں کے سوالات کے جوابات میں ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ جس طرح نیب کی مصیبت میں پیپلز پارٹی ہے اس طرح اللہ سب کو لائے خورشید شاہ خود اندر مزے سے بیٹھے ہیں کیونکہ باہر آئیں گے تو ان کے لیے اور مسائل ہیں زردار ی صاحب آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں بلاول کو ابھی تک کسی نے پوچھا نہیں وزیراعلیٰ سندھ نے کرپشن کے کیا کیا گل نہیں کھلائے ان کو کسی نے ابھی تک پوچھا نہیں، ڈاکٹر عاصم نے کراچی کے تمام نالوں پر قبضے کرلیے پورے پاکستان میں لوگوں سے پیسے لیکر میڈیکل کے لائسنس دے دیے گئے پیٹرولیم کے لائسنس دے دیے گئے ان کو کسی نے پوچھا نہیں ایک میمن صاحب تھا بیشمار پیسہ نکلا انہیں کسی نے نہیں پوچھا حلیم عادل شیخ کو گرفتار کرنے سے سندھ حکومت سمجھتی ہے کہ ان کی کرپشن دب جائے گی تو بیشک انہیں گرفتار کرلیں ہم عدالتوں میں جائیں گے، سندھ حکومت کے پاس اینٹی کرپشن اور اپنے ادارے موجود ہیں یہ نہ سمجھیں کے ان کی کرپشن کو چھپنے دیں گے نیب نے جس کے خلاف کیسز کھولے وہ ہم نے دل سے قبول کیے ان کی طرح نہیں کہ پیپلز پارٹی کا ایک شخص اعلیٰ ترین عدلیہ کو گالیاں دے رہا تھا لیکن جب وہ عدالت کے سامنے پہنچے تو پاؤں پکڑ لیے اس نے جو کام عدالت میں کیا وہی کام کرنے بلاول واشنگٹن میں جارہا ہے یہ دونوں جماعتیں پہلے گریبان پکڑتی ہیں جب پھنس جاتے ہیں تو پاؤں پکڑتے ہیں لندن میں ہمار اایک مطلوب شخص بیٹھا ہے جس نے یہاں پر دہشتگردی کروائی اسے تحفظ دیا جاتا ہے اس کے وقت میں امن کی بات نہیں کی جاتی ہمارے ہاں کوئی بات ہو تو اسے اچھالا جاتا ہے وزیر اعظم نے اسمبلی فلور پر کہا کہ اگر آپ کو دہشتگردوں کا پتہ ہے تو ہم نے آپ کے کہنے پر ان کا پیچھا کیا اور ہمارے ستر ہزار لوگ شہید ہوئے یہ سلامتی اور امن کی بات کرنے والی امت ہے کسی سے زیادتی اور حملہ کرنے والی امت نہیں جو بھی کسی دوسری جگہ دہشتگردی کرواتا ہے ہم چاہتے ہیں ہر شخص کے خلاف کاروائی ہو ہم ایک سچی جمہوری پارٹی ہیں ہم کسی غیر جمہوری عمل پر یقین نہیں رکھتے لیکن سندھ حکومت کو سندھ کے عوام کے ساتھ زیادتی نہیں کرنی چاہیے ہم ہر جگہ ہیلتھ کارڈ دے رہے ہیں یہ بتائیں سندھ کی عوام کا کیا قصور ہے آپ واشنگٹن جوتے صاف کرنے جارہے ہیں اس سے اچھا ہے کہ آپ سندھ کی عوام کو صحت کارڈ مانگنے پر کہتے وائی ناٹ میڈیا اور عوام اب جج ہیں اگلے الیکشن میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا ہم کسی کی بیماری کے اوپر سیاست نہیں کرتے نہ کسی کی موت پر سیاست کرتے ہیں پچھلی دفعہ میں سندھ آیا تو اس دن محترمہ کی سالگرہ تھی شاہراہ فیصل پر ایک بھی بینر نہیں تھا اور جب محترمہ کی برسی ہوتی ہے تو یہ خوشیاں مناتے ہیں پیپلز پارٹی لاشوں اور بیماریوں پر سیاست کرتی ہے آصف زرداری کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں این ایف سی کوئی کسی کو کم نہیں دے سکتا کل کسی اور جماعت کی حکومت ہوگی کوئی ایک ٹکہ نہیں روک سکتا جو انہوں نے چوری کی وہ ان سے ریکور کی گئی یہ کیش مانگتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے ہم روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگاکر واشنگٹن میں اپنی دکان نہیں لگائیں گے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے