تازہ ترین
Home / آرٹیکل / بلاول جمہوریت اور جنازہ تحریر: ارسلان تاج

بلاول جمہوریت اور جنازہ تحریر: ارسلان تاج

بلاول جمہوریت اور جنازہ

تحریر: ارسلان تاج

پاکستان میں مغربی جمہوریت کے علمبردار اور جمہوری اقدار کے دعویدار بننے والے پیپلز پارٹی کے قائدین کی جانب سے بلاول زرداری کے قومی اسمبلی میں دیئے گئے بیان کی مذمت نہ آنا ان کے اصل چہرے سامنے آگئے۔ اگر ایسا بیان پی ٹی آئی کے کسی بھی عام رکن کی جانب سے آتا تو واٹس ایپ گروپس کے صحافی اس عمل پر اب تک پوری دنیا میں شور مچا چکے ہوتے۔
بلاول زرداری نے قومی اسمبلی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے بیان دیا کہ ان کا فون آئی ایس آئی کے ذریعے ٹیب کروایا جائے۔ یہ ایسا بیان ہے جو کہ انسانی حقوق کی پامالی ہے اور جمہوری و سیاسی اقدار کی بھی توہین ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلاول زرداری سیاسی قائدین کے فون ٹیب کروانے جیسے اقدام پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ بلاول شاید اپنی ہی جماعت کے قائدین کے ماضی میں یا پھر حال میں بھی فون ٹیب کرواتے رہیں ہوں۔ کیا زرداری صاحب دور صدارت میں یوسف رضا گیلانی کے فون ٹیب کرواتے تھے؟ یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ بینظیر بھٹو آصف زرداری کے فون ٹیب کرواتی رہیں ہوں۔
کیا بلاول کو اپنے والد اور والدہ جوکہ وزیراعظم اور صدر پاکستان کے منصب پر فائض رہے ان سے یہ جمہوری اور سیاسی تربیت ملی جس میں ان کو بتایا گیا کہ کس طرح مخالفین یا اپنی ہی جماعت کے اراکین کے خلاف قومی اداروں کو استعمال کیا جائے؟ کیا بلاول کو رضا ربانی اور اعتزاز احسن صاحب سے یہ تربیت ملی جس میں ان کو بتایا گیا کہ سیاسی شخصیت کے فون ٹیپ کروائے جائے؟
بلاول کا یہ بیان اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو سیاسی معاملات میں قومی اداروں کو بے مطلب شامل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کی خواہش صرف کسی غیر جمہوری یا آمرانہ نظام میں ہی دیکھی جا سکتی ہے۔
یہ بات بھی غور طلب ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پاکستان کے امریکہ میں سفیر حسین حقانی نے میمو گیٹ اسکینڈل میں اپنا بلیک بیری موبائل فون عدالت کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا اور بعدازاں ملک سے فرار ہو گئے تھے۔ بلاول کو کسی کے حوالے سے ایسی بات کرنے سے پہلے اپنے دیرینہ ساتھی حسین حقانی سے ضرور وہ موبائل فون طلب کرنا چاہئے۔
اگر تو بلاول کا سیاسی شخصیات کے فون ٹیپ کرانے کا مطالبہ جائز ہے تو پھر بلاول اس عمل کی شروعات اپنے آپ سے کریں اور قومی اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہو کر وزیراعظم سے درخواست کریں کہ ان کا فون ٹیب کیا جائے۔ یہ بھی قوی ممکن ہے کہ اگر تو ان کا فون ٹیب کیا جاتا ہے تو ان کے ریکارڈ میں امریکہ اور برطانیہ کی کئی کالز نظر آئیں ایک عاد حسین حقانی کی یا دبئی میں بیٹھی عیان علی یا ڈیوڈ کی بھی مل سکتی ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

مسیحا نما جلاد ! ۔۔۔ تحریر : شاہد مشتاق

وہ رمضان 6 جون 2017ء کا ایک ابر آلود دن تھا مجھے لمبے عرصے بعد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے