تازہ ترین
Home / اہم خبریں / بنی گالا کسی طرح بھی بکنگھم پیلس سے کم نہیں، قوم کو اخراجات کے ذرائع کے بارے میں بتایا جائے۔ سہیل یعقوب سیکریٹری جنرل پی کیو آئی

بنی گالا کسی طرح بھی بکنگھم پیلس سے کم نہیں، قوم کو اخراجات کے ذرائع کے بارے میں بتایا جائے۔ سہیل یعقوب سیکریٹری جنرل پی کیو آئی

کراچی (نوپ نیوز) پاکستان قومی اتحاد کے سیکریٹری جنرل سہیل یعقوب نے کہا ہے کہ بنی گالا کسی طرح بھی بکنگھم پیلس سے کم نہیں، قوم کو اخراجات کے زرائع کے بارے میں جواب دیا جائے۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نہ بنیں۔ فواد چوہدی اور دیگر پی ٹی آئی وزراء نے پاکستان قومی اتحاد (پی کیو آئی) کے چیئرمین، جسٹس (ر) وجیہہ الدین، کے لئے مسخرہ جیسے غیر مہذبانہ الفاظ استعمال کر کے ناشائستگی کی تمام حدود پار کر لی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی اور(مرحوم) نعیم الحق کی کاوشوں اور مسلسل اصرارکے نتیجے میں جسٹس (ر) وجیہہ نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس موقع پر عمران خان خود ایک بڑی ٹیم کے ساتھ ان کی رہائش گاہ پر وارد ہوئے تھے جہاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا تھا۔ ممبر شپ کے دوران جسٹس (ر) وجیہہ پارٹی کے اہم ترین قائدین میں شمار کئے جاتے تھے اور پی ٹی آئی نے انہیں 2013 کے صدارتی انتخاب کے لئے بھی نامزد کیا تھا۔ ستمبر 2016 میں، پی ٹی آئی کے اقتدارِ میں آنے سے قبل ہی جسٹس (ر) وجیہہ نے اس بنیاد پر پارٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا کہ پارٹی نے وہ کچھ کرنا ہی نہیں ہے جس کے عمران خان وعدے وعید کرتے رہے تھے۔ جسٹس(ر) وجیہہ، عمران خان کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔ انہوں نے عمران خان پر اصولی بنیادوں کی پاسداری کرتے ہوئے، بھروسہ کر کے ان کے ساتھ کام کرنے کی رضامندی ظاہر کی تھی۔ بعد ازاں پی ٹی آئی قیادت کا اصل چہرہ دیکھنے، مختلف پوزیشنز پر موجود افراد کی سچائی جان لینے اور پی ٹی آئی کی بدعنوانیوں کے بعد انہوں نے جب پارٹی کی بے قاعدگیوں کو بے نقاب کیا تب سے انہیں طنز و تشنیع کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جسٹس (ر) وجیہہ نے پی ٹی آئی، اس کی قیادت اور ممبران کو بہت قریب سے دیکھنے کے بعد پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان قومی اتحاد کے سیکریٹری جنرل سہیل یعقوب نے پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی میں پی کیو آئی کے ہنگامی اجلاس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی وزراء کی جانب سے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھائے جانے کے حالیہ واقعات کچھ یوں ہیں کہ جسٹس (ر) وجیہہ نے ایک نجی چینل کے انٹرویو میں صرف اتنا کہا تھا کہ عمران خان کس طرح کے دیانتدار ہیں کہ خود ان کے بنی گالہ کے گھر کا خرچہ پارٹی کے، جہانگیر ترین جیسے، متمول لوگ چلاتے رہے ہیں۔ سہیل یعقوب نے مزید کہا کہ فواد چوہدری کے ذاتی کردار کے بارے میں قانون سے متعلق تصنیفات تک میں موشگافیاں ہوچکی ہیں۔ ان کی سیاسی وابستگیوں میں بار بار تبدیلیوں سے کون واقف نہیں ہے؟ سہیل یعقوب نے کہا کہ وہ پھر بھی انہیں سیاسی خانہ بدوش کہنے سے اجتناب برتیں گے۔ پی ٹی آئی قیادت اپنا اصل چہرہ سامنے آنے پر ہمیشہ ذاتیات، گالم گلوچ اور اخلاقی پستی کے مظاہرے کرتی ہے۔ فواد چوہدری اپنے قائد کے دفاع میں،غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے کے بجائے سامنے آکر عمران خان کے وہ ذرائع آمدنی بتائیں جن کی بدولت وہ اپنے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ جسٹس (ر) وجیہہ کے بیان پر خود عمران خان نے تو ہتک عزت کی کاروائی کے کسی قصد کا اظہار نہیں کیا لیکن ماتحت پی ٹی آئی وزراء اور فالوورز کے بے سروپا بیانات پر تکیہ ضرور کئے ہوئے ہیں۔ ماتحتوں میں تازہ ترین جہانگیر ترین کا بیان مضحکہ خیز ہے کہ ان کے عمران خان سے حالیہ مراسم جیسے بھی رہے ہوں، سچ یہ ہے کہ بنی گالا اسٹیٹ کے اخراجات کے زمرے میں انہوں نے ایک پینی بھی نہیں دی۔ جہانگیر ترین کن مراسم کی بات کر رہے ہیں؟ وہ مراسم جن کے طفیل چینی اسکینڈل کیس میں آج تک ان کا بال بھی بیکا نہ ہوسکا؟ جہانگیر ترین کو عمران خان کی اے ٹی ایم مشین بلاوجہ تو نہیں کہا جاتا۔ سہیل یعقوب نے کہا کہ جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے بیان کے تناظر میں پاکستانی قوم، اب بہ نفس نفیس وزیر اعظم عمران خان سے جاننا چاہے گی کہ ان کے بنی گالہ کے مسکن کا (جو رقبے میں کسی طرح بکنگھم پیلیس سے کم نہیں) ماہانہ خرچہ کیا ہے؟ اور ان کے اخراجات آخر کہاں سے پورے ہوتے رہے ہیں؟ قوم کو جواب کا انتظار رہیگا۔

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے