کوئٹہ (رپورٹ: شاہد عمران چشتی) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس میں گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی- رکن بلوچستان اسمبلی ثناء اللہ بلوچ نے کہا کہ فنڈز میں اضافے کے باوجود شرح غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا- پی ایس ڈی پی کی ساخت اور طریقہ کار میں خامیاں موجود ہیں- تعلیمی ایمرجنسی اور فنڈز میں اضافے کے بعد تعلیم شرح مزید 4 فیصد کم ہوئی- ہمیں مختصر اسکیمات کے بجائے 5 سالوں کےلئے پی ایس ڈی پی بنانا چایئے- ہمارے محکموں کے اہلکار فنڈز کو جلد ختم کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں- بلوچستان میں اب تک پروینشل فائننشل کمیشن کا قیام عمل میں نہیں لایا جاسکا, فنڈز کی منصفانہ تقسیم کا فارمولہ بنایا جائے- این ایف سی ایوارڈ میں 1 کھرب 50 ارب لاکر دینگے- عنقریب انٹرنیشنل ڈونرز کانفرنس بلائیں گے- جبکہ رکن اسمبلی مبین خلجی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے میں کوئٹہ کیلئے کچھ نظر نہیں آتا- صوبائی دارلحکومت میں کوئی نیا تعلیمی ادارہ منظور نہیں ہوا صرف مرمت کی مد میں فنڈ مختص کرنا ترقی نہیں- گیس پریشر درست کرنے کیلئے کام کیا جائے- نئی پی ایس ڈی پی کو مسترد کرتا ہوں-صوبائی درالحکومت کیلئے جامع منصوبہ بندی کی جائے- رکن اسمبلی فضل آغا نے کہا کہ پورے بلوچستان کے محکمے بے لگام ہوچکے ہیں- ضلع پشین میں تعلیم صحت کی سہولیات کا فقدان ہے- ضلعی انتظامیہ مسائل حل کرنے میں دلچسپی لے بیورکرسی جذبے سے کام کرے تو مسائل حل ہوسکتے ہیں-