کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) صوبائی سیکرٹری جنرل جے یو آئی سندھ علامہ راشد محمود سومرو کا وزیر اعلیٰ سندھ کے نام کھلا خط، پورے ملک اور صوبہ سندھ کورونا وائرس جیسے موذی مرض سے گذر رہا ہے۔ بحیثیت وزیر اعلیٰ سندھ سب سے پہلے آپ نے عملی اقدامات کئے جے یو آئی نے قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ان اقدامات پر ہم نے آپ کو مبارکباد بھی دی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ لاک ڈاؤن کے فیصلے پر جمعیت علماء اسلام نے حکومت کی مکمل حمایت کا فیصلہ کیا اور فیصلوں پر عمل کروایا، مدارس کی تعطیلات کرائی گئیں تنظیمی سرگرمیاں معطل کی گئی جلسہ جلوس ختم کئے گئے۔ مساجد کے حوالے سے آپ نے علماء سے دو دن کے مذاکرات کے بعد ایک اعلامیہ جاری کروایا۔ اعلامیہ کے 15 گھنٹے بعد مرتضیٰ وہاب اور سید ناصر حسین شاہ نے اعلامیہ کے برعکس مساجد میں 5 نمازیوں کے ساتھ نماز اور جمعہ کے علاوہ پابندی کے احکامات جاری کئے۔ شدید تحفظات کے باوجود ہم نے اس کو قبول کیا اور علماء کو کہا کہ حکومتی حکم پر عمل کریں۔ ہم نے عوام سے مسلسل اپیل کی کہ وہ نماز گھروں میں ادا کریں۔ گزشتہ دو جمعہ کے اجتماعات پر سندھ حکومت نے انتہائی زیادتی سے کام لیا۔ سندھ بھر میں علماء کرام کو گرفتار کیا گیا بعض شخصی ضمانت پر رہا ہوئے تو بعض علماء کو عدالت سے ضمانتیں کروانی پڑی۔ لاڑکانہ میں میری مسجد سمیت متعدد مساجد کو سیل کیا گیا جمعہ کے دن مساجد کو تالے لگائے گئے جو انتہائی نامناسب عمل ہے۔ مساجد میں نہ لوگوں کو امام لاتا ہے نہ لوگوں کو روکنا امام کا کام ہے۔ اگر لاک ڈاؤن کے باوجود لوگ مسجد آئے تو ذمہ دار ائمہ کرام نہیں ہیں بلکہ اس تھانے کا ایس ایچ او ہے۔ کاروائی علماء کرام کے خلاف نہیں متعلقہ تھانہ کے ایس ایچ او کے خلاف ہونی چاہئے۔ مساجد کو تالے اور سیل کرنا اور علماء کرام کو گرفتار کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سندھ حکومت اس حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے۔ آپ نے مختلف انٹرویوز میں کورونا کا ذمہ دار پرامن تبلیغ جماعت کو ٹہرایا ہے۔ وفاقی وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس کے مطابق 78 فیصد کورونا تافتان کے ذریعہ 17 فیصد بیرون ممالک سے آنے والے حضرات کے ذریعہ اور 5 فیصد ہاہمی عوامی میل جول سے آیا ہے۔ آپ کا ایک وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے تبلیغی جماعت کو بار بار ذمہ دار ٹہرانا افسوسناک عمل ہے، آپ کے بیانیہ سے تبلیغ کے خلاف تعصب نظر آرہا ہے وہیں عملی طور پر پورے صوبہ سندھ میں ہر تحصیل ضلع سطح پر تبلیغ جماعت کے ساتھ افسران ڈپٹی کمشنر اور پولیس کی طرف سے انتہائی ناروا سلوک برتا جارہا ہے۔ بہت ساری خواتین کی جماعتیں اور مردوں کی جماعتیں جو قرنطینہ میں نہیں ہیں ان کو بھی زبردستی روکا گیا ہے اور اپنے گھروں کو جانے نہیں دیا جارہا ہے۔ بعض جماعتوں کو زبردستی دوسری جگہوں سے لاکر قرنطینہ میں ڈالا جارہا ہے جس وجہ سے دینی اور مذہبی طبقہ میں پریشانی پائی جارہی ہے۔ وزیر اعلی سندھ آپ اس پر نوٹس لیں جہاں جہاں صوبہ بھر میں تبلیغ کی جماعتیں قرنطینہ میں نہیں ہیں ان کو گھروں کو جانے دیا جائے۔ اور جو قرنطینہ میں ہیں انکے فوری ٹیسٹ کروائے جائیں جو اس وبا سے محفوظ ہیں ان کو گھروں کو روانہ کیا جائے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ وزیر اعلیٰ سندھ کی حیثیت معاملات کا نوٹس لیں گے۔ اور مذہبی طبقہ کے تحفظات کو دور کرکے ان مسائل کو فوری حل کریں گے۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: مستحقین تک امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے شفاف طریقہ کار طے ہونا چاہیے۔ یاسر خان کوارڈینٹر نیٹ ورک فار ہیومین رائٹس اینڈ جسٹس خیبر پختونخوا
https://www.nopnewstv.com/a-transparent-mechanism-must-be/