کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) القادر ویلفیئر فاؤنڈیشن نے بین الاقوامی آن لائن تجارت سے پاکستان کے عوام اور بالخصوص نوجوانوں کو منسلک کرنے کے لیے ایکسٹریم کامرس کے ساتھ معاہدہ برائے مفاہمت (ایم او یو) پر دستخط کردیئے ہیں۔ ایم او یو پر دستخط گذشتہ سہہ پہر پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی میں القادر فاؤنڈیشن کی جانب سے چیئرمین غلام ہاشم نورانی جبکہ ایکسٹریم کامرس کی جانب سے چیف آپریٹنگ آفیسر حمیر علی نے کیے۔ بعد ازاں دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔ تقریب میں معروف بلڈر الطاف طائی، اشفاق موتی والا،عبدالصمد بڈھانی، سراج نگریا، خرم عبدالرزاق اور دیگر معروف شخصیات نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاؤنڈیشن کے چیئرمین غلام ہاشم نورانی نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب 60 فیصد ہے اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان نسل کی صلاحیتوں کا استعمال کرکے ملک کا زرمبادلہ بڑھایا جائے اور ملک کے اکثر پسماندہ خاندانوں کو سہارا دیا جائے تاکہ یہ خاندان خط غربت سے نیچے زندگی گذارنے کے بجائے خود انحصاری کی طرف آئیں۔ غلام ہاشم نورانی نے کہا کہ القادر فاؤنڈیشن لوگوں کو کھانا بھی کھلاتی ہے لیکن وہ صرف ابتدائی امداد ہے ہمارا اصل مقصد لوگوں کو نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے اہل خاندان کا سہارا بننے کے لیے تربیت دینا ہے۔ فاؤنڈیشن کے جنرل سیکرٹری عامر مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر کی تربیت حاصل کرنے والے افراد کی ہر طریقے سے مدد کی جائے گی چاہے وہ لیپ ٹاپ کی فراہمی ہو یا کوئی اور طریقہ، ہماری یہ مدد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہمارے زیر ہدف افراد کی آمدنی لاکھوں روپے ماہانہ میں نہیں ہوجاتی۔ درحقیقت یہ خود کفیل بنانے کا پروگرام ہے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایکسٹریم کامرس کے مسٹر کاشف نے کہا کہ امریکا میں آن لائن بزنس کا 50 فیصد حصہ ایمیزون کے پاس ہے۔ آن لائن سیل، آن لائن تجارت کے ذریعہ ہم نوجوانوں کو اس طرف لانا چاہتے ہیں تاکہ ہمارے نوجوان بین الاقوامی تجارت میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایکسٹریم کامرس نے اب نوجوانوں کے لیے اسکلز کی تعداد 50 سے بڑھا کر 100 کردی ہے۔