نوشہرو فیروز (رپورٹ: امداد اللہ ملک) مورو میں گزشتہ کئی سالوں کے بعد ڈیپارجہ لنک روڈ کا کام شروع ہوتے ہی کرپشن کی نظر ہونے لگا مورو میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوتا اور پھر خدا خدا کرکے کوئی ترقیاتی کام منظور ہوجائے تو ٹیھکدار کے رحم و کرم پر چھوڑ دئیے جاتے ہیں ایسے ہی مورو ڈیپارجہ لنک روڈ بھی ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، تفصیلات کے مطابق کروڑوں روپوں کی لاگت سے تعمیر ہونے والے ڈیپارجہ لنک روڈ ٹھیکیدار کی کرپشن کی نظر ہونے لگا روڈ میں پڑنے والی مٹی، سمینٹ، اینٹیں بھی ناقص استعمال ہونے لگیں اس موقع پر علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ بیس سال کے بعد روڈ منظور ہونے کے بعد روڈ کا کام کرپشن کی نظر ہونے لگا کرپشن کے باعث روڈ تعمیر ہونے سے پہلے اکھڑنے لگا۔ علاقہ مکینوں نے نیب، ایف آئی سمیت اینٹی کرپشن سندھ سے اپیل کی ہے کہ روڈ کے کام میں ہونے والی کرپشن کا جائزہ لیا جائے اور روڈ کام تسلی بخش کام کروایا جائے۔