میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) نگراں ڈسٹرکٹ انچارج خوشی محمد مغل، ڈسٹرکٹ جوائنٹ انچارجز و اراکین ڈسٹرکٹ کمیٹی اور چیئرمین بلدیہ انجینئر کامران شیخ پر مشتمل ایم کیو ایم پاکستان میرپورخاص ڈسٹرکٹ کے وفد نے میرپورخاص کے علاقے ایوب نگر کی رہائشی، پولیس کے تشدد کا نشانہ بننے والی معصوم بچی نمرہ کے گھر کا دورہ کیا اور معصوم بچی کے نانا عبدالرشید اور ماموں سرفراز سے ملاقات کی۔ اس موقع پرمتاثرہ خاندان نے بتایا کہ لاک ڈاﺅن کو جواز بنا کر میرپورخاص پولیس دکانداروں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے اور فرائض کی انجام دہی کے بجائے لاک ڈاﺅن پر عملدرآمد کے نام پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے متاثرہ خاندان کو ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔ قبل اذیں نگراں ڈسٹرکٹ انچارج خوشی محمد مغل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے رکھوالے قانون شکنی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ لاک ڈاﺅن کی آڑ میں دکانداروں سے بھتہ خوری کی جارہی ہے۔ گذشتہ دنوں غریب آباد میں لاک ڈاﺅن کے وقت سے قبل ہی پولیس اہلکاروں نے ٹھیلے الٹ دیئے اور ریڑھی بانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔مکہ مسجد چوک سیٹلائیٹ ٹاﺅن، ایم اے جناح روڈ اور کھان روڈ سمیت متعدد علاقوں میں دکانداروں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مہاجر کالونی میں پولیس اہلکاروں کی بھتہ خوری پر بھی تشویش ہے۔ گذشتہ دنوں لاک ڈاﺅن کے دوران مہاجر کالونی چوک پر کریانہ کی دکان پر لاکھوں روپے کی منظم چوری پولیس کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ صحافی فہد ملک بھی پولیس گردی سے نہ بچ سکے، انہیں بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سنگین صورتحال کے پیش نظر خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ میرپورخاص کے شہری احتجاج سمیت اعلیٰ ایوانوں میں آواز بلند کرنے کا آئینی حق استعمال کرنا جانتے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ دکانداروں، عوام اور معصوم بچوں پر تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ معصوم بچی پر تشدد کا معاملہ قومی و صوبائی اسمبلی سمیت ہر سطح پر اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان، چیف جسٹس سپریم کورٹ، چیف آف آرمی اسٹاف، گورنر سندھ اور آئی جی سندھ پولیس سے مطالبہ کیا کہ لاک ڈاﺅن کی آڑ میں میرپورخاص میں جاری پولیس گردی کا فی الفور نوٹس لیا جائے اور معصوم بچی نمرہ پر تشدد کے ذمہ داران کے خلاف سخت ترین محکمانہ و قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔