کوئٹہ (رپورٹ: شاہد عمران چشتی) بلوچستان کے 19 محکموں میں ساڑھے 17 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، آڈٹ رپورٹ میں ساڑھے 4 کروڑ روپے کے فراڈ کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ بلوچستان میں کرپشن کی ایک اور کہانی سامنے آگئی، آڈیٹر جنرل پاکستان نے صوبے کے مالی سال 17-2016ء کے بجٹ کے 144 ارب روپے کی رقم کا آڈٹ کیا، جس میں 17 ارب 43 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، آڈٹ کے دوران 5 ارب 57 کروڑ روپے کا ریکارڈ ہی پیش نہیں کیا گیا۔ صوبے کے 29 محکموں میں مالی اصولوں اور دیانت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اربوں روپے کے اخراجات کئے گئے، آڈٹ رپورٹ میں تعمیراتی و ترقیاتی کاموں میں 3 ارب 90 کروڑ روپے اور سرکاری وصولیوں میں ایک ارب روپے کے ہیر پھیر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ صحت، ایس اینڈ جی اے ڈی، زراعت، لائیو اسٹاک اور کھیل کے محکموں میں قومی خزانے کو ساڑھے 4 کروڑ روپے کا چونا لگایا گیا۔ آڈٹ رپورٹ میں مالیات پر کنٹرول بہتر بنانے اور بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔