Home / اہم خبریں / کراچی پریس کلب کا احتجاج رنگ لے آیا، سی ٹی ڈی نے گمشدہ سینئر صحافی کو کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کردیا گیا

کراچی پریس کلب کا احتجاج رنگ لے آیا، سی ٹی ڈی نے گمشدہ سینئر صحافی کو کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کردیا گیا

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت کے انتظامی جج نے گمشدہ صحافی نصراللہ خان چوہدری کا مبینہ طور پر ممنوعہ لٹریچر رکھنے پر محکمہ انسداد دہشت گردی سی ٹی ڈی کی حراست میں دو روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے تفتیشی افسر کو ہدایت کہ انہیں 13 نومبر کو پیش کریں اور اگلی سماعت پر چارج شیٹ بھی جمع کرا دیں۔ روزنامہ نئی بات سے منسلک سینئر صحافی نصراللہ چوہدری کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے نفرت انگیز میٹریل چھاپنے کی دفعہ 11- ڈبلیو ون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ صحافی برادری نصراللہ خان چوہدری کو 10 نومبر اور 11 نومبر کی درمیانی رات کو ان کے گھر کے باہر سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے عہدیداروں کی جانب سے حراست میں لینے کے خلاف صحافی برادری کی جانب سے مسلسل احتجاج کیا جارہا ہے۔ صحافتی تنظیموں اور گروپس قانونی نافذ کرنے والے اداروں کے عہدیداروں کی جانب سے 9 نومبر کو کراچی پریس کلب میں غیر قانونی مداخلت کو جواز دینے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ تفتیشی افسر نے زیرحراست صحافی کو انتظامی جج کے سامنے پیش کیا اور تفتیش کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔ سی ٹی ڈی کے تفتیشی افسر انسپکٹر سید علی حیدر کا کہنا تھا کہ زیرحراست مشتبہ شخص القاعدہ کے دہشت گرد خالد مکاشی کی ‘سہولت کاری’ میں ملوث تھے اور انہیں 11 نومبر کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عہدیداروں نے 2011 میں شائع ہونے والے نوائے افغان جہاد سے بھرا ہوا ایک بیگ بھی برآمد کرلیا ہے جو پاکستان اور پاکستانی حکومت کے خلاف تشدد اور مذہبی نفرت پر اکساتے تھے۔ تفتیشی افسر نے درخواست کی اسی لیے گرفتار صحافی کو 14 رزہ جسمانی ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کی حراست میں دیا جائے تاکہ مزید تفتیش اور دیگر قانونی معاملات کو مکمل کیا جائے۔ نصراللہ خان چوہدری کے وکلا محمد فاروق اور سید حیدر امام رضوی نے تفتیشی افسر کی سی ٹی ڈی کی حراست میں ریمانڈ کی درخواست کی یکسر مخالفت کر دی۔ وکلا صفائی نے موقف اپنایا کہ ان کا موکل ایک شریف النفس اور بے گناہ ہیں جنہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے عہدیداروں نے 10 نومبر اور 11 نومبر کی درمیابی شب کو سندھ گورنر ہاﺅس کے باہر صحافیوں کے احتجاج میں شرکت کے بعد واپسی پر ان کے گھر کے باہر سے اٹھا لیا جو کراچی پریس میں ‘غیر قانونی’ کارروائی کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ وکلا نے مزید کہا کہ سینئر صحافی کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے عہدیداروں نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا ہے جس کا مقصد کراچی پریس کلب میں کی گئی ان کی غیر قانونی کارروائی کو جواز فراہم کیا سکے۔ نصراللہ چوہدری کے وکلا نے جسمانی ریمانڈ کی تفتیشی افسر کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ سینئر صحافی کی جھوٹے مقدمے میں گرفتاری کی خبر عالمی میڈیا میں شائع ہوئی جس سے پاکستانی صحافیوں سمیت ملک کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔ جج نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ تفتیشی افسر کی جانب سے مبینہ طور پر ممنوعہ لٹریچر برآمد ہونے پر 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کا مطالبہ بلا جواز نظر آتا ہے۔ جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے دو ہفتوں کی جسمانی ریمانڈ کی تفتیشی افسر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دو روزہ ریمانڈ دے دیا اور تفتیشی افسر کو ہدایت کر دی کہ ان کے خلاف 13 نومبر کو چارج شیٹ جمع کرا دے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

صحافت کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی تحریر : سردار عبدالرحمٰن ڈوگر ایڈووکیٹ/سابق صدر پریس کلب کمالیہ

آج 3مئی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافیوں کا عالمی دن منایا جا رہاہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے