Home / اہم خبریں / منی لانڈرنگ کیس، جب تک ایک ایک ریکارڈ جے آئی ٹی کو نہ مل جائے کراچی میں بیٹھا ہوں- چیف جسٹس

منی لانڈرنگ کیس، جب تک ایک ایک ریکارڈ جے آئی ٹی کو نہ مل جائے کراچی میں بیٹھا ہوں- چیف جسٹس

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے منی لانڈرنگ کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ جب تک ایک ایک ریکارڈ جے آئی ٹی کو نہ مل جائے کراچی میں بیٹھا ہوں- جعلی اکاؤنٹس کے بارے میں پچھلے تین چار دنوں سے کام کر رہے تھے گودام اور بینک کا ریکارڈ بھی چیک کیا جائے- فائنل رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اومنی سے جواب لے لیں گے – جے آئی ٹی سے یہ تعاون جاری رکھا جائے، جو عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی اور اس سلسلے میں جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق سمیت دیگر ممبران عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر محکموں کے عدم تعاون اور ریکارڈ وقت پر نہ دینے سے متعلق سابقہ آردڑ پڑھ کر سنایا گیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چیف سیکرٹری سندھ کہاں ہیں؟ عدم تعاون کی شکایت ہے۔ چیف سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے تمام ریکارڈ دے دیا ہے- اس پر چیف جسٹس پاکستان نے جے آئی ٹی کے سربراہ سے پوچھا کہ تمام دستاویزات مل گئے ہیں؟ احسان صادق نے بتایا کہ تمام دستاویزات مل گئی ہیں مگر اسکروٹنی کرنی ہے ہم عدالت کے شکرگزار ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو کہیں مجھے سے چیمبر میں آکر ملیں اور میں واضح کردوں کہ وزیراعلیٰ سندھ کو سمن جاری نہیں کیا، وزیراعلیٰ کو عدم تعاون کی شکایت پر چیمبر میں ملاقات کیلئے بلایا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک ایک ایک ریکارڈ جے آئی ٹی کو نہ مل جائے کراچی میں بیٹھا ہوں، جعلی اکاؤنٹس کے بارے میں پچھلے تین چار دنوں سے کام کررہے تھے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اومنی پر 23 بلین کے واجبات ہیں، یہ 23 بلین بینک کھا گیا یا اومنی؟ سندھ بینک اس لیے تو مرجر کرنے جارہے تھے کہ پتہ ہی نہ چلے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے دستاویزات نہ دینے کی شکایت کی گئی تھی، اب تمام سیکریٹریز نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، جے آئی ٹی سے یہ تعاون جاری رکھا جائے، جو عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔عدالت نے دوران سماعت جے آئی ٹی کو حکم دیا کہ 70 بلین روپے کے لون کی مکمل تحقیقات کی جائیں، اس میں ملزمان کے خلاف کرمنل ایکشن لیا جائے۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ ٹائم ٹو ٹائم جو ریکارڈ مانگیں گے ہم دے دیں گے- اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اور جو نہیں مانگیں گے ہم دے دیں گے- اسلام آباد سے کراچی آنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگتا ہے، تعاون رہے تو مہربانی ہوگی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کراچی پریس کلب اور کمیونٹی پولیسنگ کراچی کے درمیان شجرکاری کے فروغ کیلئے ایم او یو پر دستخط

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسٹاف رپورٹر) شہر قائد کو سرسبز اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک بنانے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے