کراچی، (پارلیمانی رپورٹر) جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے 8 فروری کو اپنی گرفتاری پر سندھ اسمبلی کے اجلاس میں سخت احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنا ہر صورت دیا جائے گا۔ اجلاس پیر کو اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا، جس کے آغاز میں سانحہ اسلام آباد کے شہدا کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ وقفہ سوالات کے دوران محمد فاروق نے نکتہ اعتراض پر بات کی اجازت مانگی، تاہم اجلاس کی صدر نشین ریحانہ لغاری نے انہیں کارروائی مکمل ہونے کے بعد بات کرنے کی ہدایت کی، جس پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج اور شور شرابہ کیا۔ صوبائی وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز محمد اسماعیل راہو نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ 17 برسوں میں صوبے میں 10 نئی جامعات اور 16 کیمپس قائم کیے گئے ہیں، تاہم جامعات میں بسوں کی کمی ہے جبکہ کراچی یونیورسٹی کی 15 بسیں خراب پڑی ہیں۔
بعد ازاں اظہارِ خیال کرتے ہوئے محمد فاروق نے کہا کہ 8 فروری کو ان کی گرفتاری سراسر ریاستی جبر ہے اور جماعت اسلامی کی پرامن پریس کانفرنس پر پولیس کارروائی وزیر داخلہ کے احکامات پر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نکتہ اعتراض پر بات کی اجازت نہ دینا آمریت ہے اور ہم گرفتاریوں اور انتقامی کارروائیوں سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ اس موقع پر رکن اسمبلی واجد علی نے بھی ایوان میں کہا کہ انہیں گزشتہ روز گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کورنگی پولیس نے ان کی جیب سے رقم نکال لی، جس پر انہوں نے ذمہ دار ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اجلاس کے دوران وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار نے سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کی آڈٹ رپورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ ایوان میں پیش کی، جس کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کی دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔