Home / آرٹیکل / راولپنڈی کی وہ شام، 18 برس کا فاصلہ اور 2025 کا پاکستان اگر وہ آج زندہ ہوتیں؟

راولپنڈی کی وہ شام، 18 برس کا فاصلہ اور 2025 کا پاکستان اگر وہ آج زندہ ہوتیں؟

تحریر: محمد فاروق راجپوت

دسمبر کی ہوائیں جب بھی مارگلہ کی پہاڑیوں سے اتر کر اسلام آباد اور راولپنڈی کے در و دیوار سے ٹکراتی ہیں، تو ان میں ایک عجیب سی سرگوشی سنائی دیتی ہے۔ سردی کی اس لہر میں ایک پرانی کسک، ایک ان مٹ درد اور بارود کی وہ بو آج بھی محسوس ہوتی ہے جس نے 27 دسمبر 2007 کی شام، لیاقت باغ کے باہر پوری قوم کے خوابوں کو جھلسا دیا تھا۔ دسمبر صرف ایک مہینہ نہیں رہا یہ ہماری تاریخ کا وہ زخم بن چکا ہے جو ہر سال ہرا ہو جاتا ہے۔آج ہم 2025 میں کھڑے ہیں۔ بینظیر بھٹو کو ہم سے بچھڑے پورے اٹھارہ برس بیت چکے ہیں۔ ایک زمانہ گزر گیا۔ وہ بچے جو اس وقت اسکول جاتے تھے، آج عملی زندگی میں ہیں اور ملک کی باگ ڈور سنبھال رہے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ان اٹھارہ سالوں میں ہم نے کیلنڈر تو بدل لیے مگر اپنی تقدیر نہیں بدل سکے۔ آج جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو میرا قلم سیاسی تجزیہ کرنے سے زیادہ ایک ”ماتم” کرنا چاہتا ہے۔

وہ لمحہ جب وقت تھم گیا تھا مجھے وہ منحوس گھڑی آج بھی یوں یاد ہے جیسے کل کی بات ہو۔ 27 دسمبر 2007 کی شام ڈھل رہی تھی، میں اپنے دفتر میں موجود تھا اور ایک انتہائی اہم صحافتی ذمہ داری اور خبر کے سلسلے میں نکلنے ہی والا تھا۔ قدم ابھی دہلیز کی جانب بڑھ ہی رہے تھے کہ اچانک فضا میں ایک ایسی خبر گونجی جس نے میرے قدموں کو وہیں جکڑ لیا۔ ابتدائی اطلاعات مبہم تھیں، لیکن چند ہی لمحوں میں جب یہ تلخ حقیقت آشکار ہوئی کہ امید کا وہ دیا بجھ چکا ہے، کہ بینظیر بھٹو اب نہیں رہیں، تو مجھے لگا جیسے میرے اردگرد کی دنیا ساکت ہو گئی ہے۔وہ خبر نہیں تھی، وہ ایک جذباتی بھونچال تھا جس نے میرے وجود کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک شدید سکتے کی کیفیت اور غم کی سرد لہر میرے پورے جسم میں دوڑ گئی۔ میرے اعصاب اس قدر شل ہوئے کہ میں جو کچھ لمحے پہلے تک اپنے کام کے لیے مستعد تھا، بے اختیار دفتر میں پڑے صوفے پر ڈھے سا گیا۔ اس لمحے دماغ اس قدر ماؤف ہوا کہ مجھے قطعی یاد نہ رہا کہ میں کہاں جا رہا تھا اور مجھے کیا کام کرنا تھا۔ یوں لگا جیسے صرف میرا کام نہیں رکا بلکہ پاکستان کی گھڑی کی سوئیاں رک گئی ہیں۔ اس صوفے پر بیٹھے ہوئے مجھے شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ اب اس ملک کی سیاست میں وہ خلا پیدا ہو چکا ہے جو شاید صدیوں تک پر نہ ہو سکے۔ وہ بے بسی کا لمحہ آج بھی میری یادداشت میں محفوظ ہے۔

آج اٹھارہ سال بعد اسی بے بسی کے ساتھ میں سوچتا ہوں کہ اگر قدرت ہمیں ایک موقع اور دیتی، اگر وہ گولی خطا ہو جاتی، اور آج 2025 میں 72 سالہ بینظیر بھٹو پاکستان کی سیاست میں موجود ہوتیں، تو ہمارا ملک کیسا ہوتا؟ یہ سوال محض قیاس آرائی نہیں، بلکہ ہمارے آج کے مسائل کا ”پوسٹ مارٹم” ہے۔آج 2025 میں پاکستان جس بدترین سیاسی تقسیم (Polarization) کا شکار ہے، جہاں مکالمے کے دروازے بند ہیں اور سیاست دشمنی میں بدل چکی ہے، اگر بی بی زندہ ہوتیں تو یہ نوبت کبھی نہ آتی۔ وہ ”مفاہمت” کی معمار تھیں۔ انہوں نے آمریت کے سائے میں اپنے بدترین سیاسی حریف میاں نواز شریف کے ساتھ مل کر ”میثاقِ جمہوریت” (Charter of Democracy) پر دستخط کیے۔ وہ جانتی تھیں کہ سیاستدانوں کو اسٹیبلشمنٹ کے مہروں کے طور پر استعمال ہونے کے بجائے اپنے کھیل کے اصول (Rules of the Game) خود طے کرنے ہوں گے۔اگر وہ آج ہوتیں، تو وہ پارلیمان کو گالم گلوچ کا اکھاڑا نہ بننے دیتیں۔ وہ آج کے بپھرے ہوئے سیاسی ماحول میں وہ واحد شخصیت ہوتیں جو تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھانے کی اخلاقی جرات اور صلاحیت رکھتی تھیں۔ ان کا قد اتنا بڑا تھا کہ کوئی ان کی دعوت کو ٹھکرا نہیں سکتا تھا۔ وہ آج ایک ”نیا عمرانی معاہدہ” (New Social Contract) لکھ رہی ہوتیں جو اناؤں کی لڑائی کے بجائے معیشت کی بحالی پر مبنی ہوتا۔

بینظیر بھٹو کے پاس معیشت کا ایک ”عوامی ویژن” تھا۔ وہ محض روایتی سیاستدان نہیں تھیں، وہ جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھتی تھیں۔ آج جب مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، اگر بی بی ہوتیں تو ان کا فوکس صرف قرضے لینے پر نہ ہوتا بلکہ وہ ”تجارت” پر ہوتا۔ ان کے عالمی تعلقات اتنے مضبوط تھے کہ وہ پاکستان کے لیے ”ایڈ” (Aid) کے بجائے ”ٹریڈ” (Trade) کے دروازے کھلواتیں۔وہ آج کی Gen-Z اور نوجوان نسل کے مسائل کو سمجھتی تھیں۔ وہ نوجوانوں کو بے روزگاری کے سمندر میں غوطے کھاتا دیکھ کر خاموش نہ بیٹھتیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ 2025 میں ”بینظیر ڈیجیٹل یوتھ پروگرام” جیسے منصوبے لا چکی ہوتیں جو پاکستانی نوجوانوں کو عالمی منڈی سے جوڑ دیتے۔ وہ غریب عورت کے پاؤں پر کھڑا ہونے کی سب سے بڑی وکیل تھیں، اور آج ان کا معاشی ماڈل سوشل سیفٹی کے ساتھ ساتھ ”انٹرپرینیورشپ” پر مبنی ہوتا۔

آج دنیا میں پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہے اور اندرونی طور پر صوبائی رنجشیں بڑھ رہی ہیں۔ بلوچستان کے نوجوان ناراض ہیں، خیبر پختونخوا میں بے چینی ہے۔ بینظیر بھٹو وہ واحد زنجیر تھیں جو چاروں صوبوں کو جوڑے ہوئے تھیں۔ ان کی پارٹی کو ”چاروں صوبوں کی زنجیر”کہا جاتا تھا۔اگر وہ زندہ ہوتیں، تو وہ ناراض بلوچ نوجوانوں سے مذاکرات کرتیں، لاپتہ افراد کے ورثاء کے سر پر ہاتھ رکھتیں۔ وہ طاقت کے بجائے محبت اور دلیل کی زبان استعمال کرتیں۔ آج وفاق کمزور محسوس ہوتا ہے کیونکہ وہ پل(Bridge) ٹوٹ گیا ہے جو مرکز کو صوبوں سے جوڑتا تھا۔ عالمی سطح پر، وہ پاکستان کا سافٹ امیج تھیں۔ وہ مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتی تھیں اور عالم اسلام کی نمائندگی بھی کر سکتی تھیں۔ ان کی موجودگی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی ردعمل کے بجائے فعال ہوتی۔

سیاست سے ہٹ کر بینظیر بھٹو کی زندگی کا مطالعہ کریں تو لگتا ہے کہ ہم کسی یونانی المیے (Greek Tragedy) کے کردار کو دیکھ رہے ہیں۔ باپ کو پھانسی، بھائیوں کا قتل، خود جلاوطنی، شوہر کی قید اور آخر میں خود اپنی جان کا نذرانہ۔لیکن ذرا سوچیئے وہ ایک ماں تھیں۔ ایک بیوی تھیں۔ وہ چاہتیں تو مغرب کی پرآسائش زندگی گزار سکتی تھیں۔ لیکن انہوں نے دھکے کھانا، جیلیں کاٹنا، اور عدالتوں کے چکر لگانا قبول کیا۔ کیوں؟ کیونکہ ان کا خمیر اس مٹی سے اٹھا تھا۔ ان کے اندر ایک ”ماں ” تھی جو صرف بلاول، بختاور اور آصفہ کی نہیں تھی، بلکہ وہ لاڑکانہ سے لے کر خیبر تک کے ہر ننگے پاؤں پھرنے والے بچے کو اپنی اولاد سمجھتی تھیں۔ یہ وہ انسانی پہلو ہے جو آج کے خشک اور مفاد پرست سیاستدانوں میں ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔

آج 27 دسمبر 2025 کو جب ہم ان کی 18ویں برسی منا رہے ہیں، تو ہمیں رسم دنیا نبھانے کے لیے صرف پھول نہیں چڑھانے چاہئیں، بلکہ خود سے ایک سوال کرنا چاہیے۔ کیا ہم نے اس پاکستان کی حفاظت کی جس کے لیے بینظیر نے اپنی جان دی؟لیاقت باغ کی وہ شام اور میرے دفتر کا وہ صوفہ جہاں میں سکتے میں بیٹھا تھا، آج بھی مجھ سے سوال کرتے ہیں۔ بینظیر بھٹو کا لہو ہمارے انصاف کے نظام، ہماری سیاست اور ہماری اجتماعی بے حسی پر ایک قرض ہے۔ وہ جانتی تھیں کہ انہیں مار دیا جائے گا، لیکن وہ پھر بھی آئیں، کیونکہ بقول ان کے میں اپنی قوم کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔آج قوم تنہا ہے۔ قیادت کا فقدان ہے۔ لیکن راکھ کے نیچے دبی چنگاریاں ابھی بجھی نہیں ہیں۔ بینظیر بھٹو کا پیغام ”امید” کا پیغام تھا۔ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ ”جمہوریت بہترین انتقام ہے۔” یہ جملہ محض نعرہ نہیں بلکہ ایک فلسفہ ہے کہ اپنے دشمن کو مارنے کے بجائے اپنے نظام کو اتنا مضبوط کر لو کہ دشمن خود اپنی موت مر جائے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کے ”فکر” کو زندہ کریں۔ پاکستان کو بچانے کے لیے ہمیں اسی ”میثاق” اور اسی ”رواداری” کی ضرورت ہے جو انہوں نے اپنے خون سے لکھی تھی۔شخصیات مر جاتی ہیں، مگر نظریات زندہ رہتے ہیں۔ خدا حافظ بی بی! تم تاریخ کا وہ باب ہو جسے یہ قوم کبھی بند نہیں کر سکے گی۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

آج ٹی وی میں تنخواہوں کی تاخیر، کے یو جے دستور کا اظہارِ تشویش

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسٹاف رپورٹر) کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) نے آج ٹی وی میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے