جامشورو (رپورٹ: سبحان بلوچ) سیہون میں نوجوان کرامت علی چانڈیو سے زیادتی کا معاملہ۔ ایس ایس پی جامشورو توقیر محمد نعیم نے انکوائری ٹیم بنا دی۔ انسپیکٹر فاروق احمد لاکھیر کی سربراہی میں انکوائری ٹیم سیہون پہنچی۔ انکوائری ٹیم نے نوجوان کرامت چانڈیو، گرفتار 2 ملزمان اور پولیس عملداروں کے بیان رکارڈ کیئے۔ نوجوان کرامت علی چانڈیو نے اپنا پہلا بیان میڈیا کو دے دیا جس میں اس نے بتایا کہ بااثر وڈیرے نے کینسر میں مبتلا والد کے علاج میں مدد کے بہانے سے اوطاق پر بلایا اور کمرے میں بند کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا زیادتی کے بعد وڈیرے نے کمرے میں بند کردیا۔ جہاں سے بھاگ نکلا اور ڈی ایس پی سیہون کے دفتر آیا جہاں سے سیہون پولیس لیکے گئے۔ ابھی تک انصاف نہیں ملا۔ زیادتی کرنے والے مرکزی ملزم بااثر وڈیرے پر ابھی تک مقدمہ درج نہیں ہوا نہ ہی اسکو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ مجھے واقعے سے دستبردار ہونے کے لئے دھمکایا جارہا ہے۔ امید ہے پولیس انصاف فراہم کرے گی۔ ایس ایس پی جامشورو توقیر محمد نعیم اور ڈی آئی جی نعیم شیخ سے انصاف کی امید ہے۔ زیادتی کا نشانہ بننے والے نوجوان نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی ملزم فہد سولنگی کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔
![]()