Home / اہم خبریں / وفاقی دارلحکومت کی پہلی سرکاری میڈیکل یونیورسٹی گذشتہ 5 سالوں سے اہم عہدوں پر اہل افراد کو ترس گئی ،پمز انتظامیہ قابض

وفاقی دارلحکومت کی پہلی سرکاری میڈیکل یونیورسٹی گذشتہ 5 سالوں سے اہم عہدوں پر اہل افراد کو ترس گئی ،پمز انتظامیہ قابض

اسلام آباد (محمد جواد بھوجیہ) وفاقی حکومت کی سطح پر ملک کی پہلی فیڈرل چارٹرد میڈیکل یونیورسٹی شہید زوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اپنی تکمیل سے اب تک انتظامی مسائل کا شکار ہے- ابتدائی طور پر یونیورسٹی اور پمز میں تنازع رہا جو اس سال پارلیمنٹ کی مداخلت پر ختم ہوا جہاں پمز ارڈینس 2018 کے نفاظ سے یونیورسٹی اور پمز اور شہید زوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی دو علیحدہ ادارے ہیں تاہم پمز کے بعض افسران اقتدار اور قوت کے نشہ میں شہید زوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے اہم عہدے چھوڑنے کو تیار نہیں- وائس چانسلر اوریونیورسٹی کے دو اہم ترین عہدے رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات کا تعلق پمز سے ہے۔ قانون کے مطابق ایک شخص بیک وقت دو ادروں میں ملازم نہیں ہو سکتا تاہم پمز کے شعبہ برن سنٹر کے انچارج ڈاکٹر طارق شہید زوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات بھی ہیں تاہم ان کا اپنا برن سنٹر تقریبا بند پڑا ہے وہیں پمز کے شعبہ چلڈرن کے ڈاکٹر ندیم شہید زوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے رجسٹرار ہیں تاہم ڈیوٹی پر نظر نہیں آتے- شہید زوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے اہل افراد ان افراد کو عہدوں سے ہٹانے کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں ماہر قوانین کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد کا پمز آرڈینس 2018 کے بعد شہید زوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے عہدوں سے چمٹے رہنا غیر قانونی ہے عدالت ان افراد کے خلاف تنخواہ کی بندش او تمام تر مراعات واپس لے سکتی ہے وہیں دو ادوروں میں بیک وقت ملازمت کی سزا علیحدہ ہے- شہید زوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کی فکیلٹی میں گریڈ 21 کے افسران بھی موجود ہیں وہیں وزارت کیڈ نے ایک فرضی خط بھی ان قابض افسران کو جاری کررکھا ہے جو پمز کے ہونے کے باوجود شہید زوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے عہدوں پر قابض ہیں-

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

ڈی جی آئی ایس پی آر کا واضح مؤقف: بھارتی جارحیت کا فیصلہ کن اور بھرپور جواب دینے کا عزم

اسلام آباد، (ویب ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے