کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) کراچی کے نواجوان نے بصیرت سے محروم افراد کے لیے سینسر چھڑی(اسٹک) ایجاد کرلی۔ برطانیہ سے آئے ماہرین نے بھی نوجوان کی کاوشوں کو سراہا۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے شعبہ الیکٹرانکس کے طلبہ محمد حسان نے بصیرت سے محروم افراد کے لیے ایسی سینسرچھڑی(اسٹک) ایجاد کی ہے جو پانی اور گڑھے کی نشاندہی کر کے نابینا افراد کو پہلے ہی الرٹ جاری کر دے گی۔ اس میں دو سینسر کا استعمال کیا گیا ہے جو کہ چھڑی کے نیچے اور اور درمیان میں لگائے گئے ہیں۔نیچے والا سینسر پانی کی موجود گی کی نشاندہی کردے گا جبکہ درمیان والا سینسر کسی بھی گڑھے کی نشاندہی کے لیے نصب کیا گیا ہے۔ گذشتہ سال آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ کے پروفیسر ڈاکٹر سیلوا کمار رام چندرن نے انسٹی ٹیوٹ کے دورے کے دوران مذکوہ چھڑی کا بذات خودعملی مظاہرہ کیا تھا اور طلبہ محمد حسان کی کاوشوں کو سراہا تھا اور کہا تھا کہ مذکورہ کاوش نابینا افراد کے لیے تحفہ سے کم نہیں ہے یہ چھڑی راستے میں آنے والی رکاوٹ کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور بصارت سے محروم افراد کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوگی۔
Home / اہم خبریں / کراچی کے نوجوان کی نابینا افراد کے لیے انقلابی ایجاد، پانی اور گڑھے کی نشاندہی کرنے والی سینسر چھڑی تیار