![]()
حکومتی حکم نامے کے مطابق 37 ہزار روپے ماہوار تنخواہ دیئے جانے کے قانون پر عمل درآمد نہیں کروایا جا سکا
کمالیہ ( ایڈیٹر نیوز آف پاکستان ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ) سینئر صحافی کالم نگار شاعر جہاد بالقلم پاکستان کے صدر صوفی محمد ضیاء شاھد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مزدور طبقہ آج بھی قانونی حقوق سے محروم ہے۔ یوم مزدور کے موقع پر سیمینارز کانفرنسیں اور ریلیاں منعقد کروانا محض ڈرامہ بازی ہے مزدور کے نام پر یوم مزدور پر کروڑوں روپے کی کرپشن کی جاتی ہے۔ آج بھی پرائیویٹ نوکریوں پر مزدور 12 سے 16 گھنٹے کام کر رہا ہے اس ڈیوٹی ٹائم کے دوران مزدور اپنا کھانا خود خرید کر کھاتا ہے۔ اس بات پر کسی تنظیم نے آواز نہیں اٹھائی کہ اگر پرائیویٹ مزدور کسی بیماری یا فوتگی پر چھٹی کر لے تو اس کی ایک یوم کی مزدوری کاٹ لی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی مزدور بنیادی انسانی قانون اور آئینی حقوق سے محروم ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں آج تک حکومتی حکم نامے کے مطابق 37 ہزار روپے ماہوار تنخواہ دیئے جانے کے قانون پر عمل درآمد نہیں کروایا جا سکا۔ پٹرول پمپس پرائیویٹ سکولز، نجی سکیورٹی ادارے، شاپنگ سینٹرز، بھٹہ خشت، ملٹی نیشنل ڈرنک ایجنسیاں، ہوٹل اور ریسٹورنٹ، فلور ملز اور دیگر پرائیویٹ دفاتر اور کاروباری مراکز میں کام کرنے والے مزدوروں سے 12 گھنٹے سے 16 گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ لیکن یہ مزدور طبقہ تمام قانونی سہولیات کے ساتھ ساتھ میڈیسن کی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلے پھاڑ پھاڑ کر مزدور طبقہ کی ترجمانی کرنے والے لیڈر اور حکومتی ارکان تقریروں کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ پنجاب اپنی آنکھیں بند کر کے تماشہ دیکھ رہا ہے۔ اس محکمہ کی کارکردگی بھی زیرو نظر آرہی ہے۔ پنجاب کی موجودہ حکومت کو لچھے دار تقریروں اور فقط نعرے بازی سے نکل کر عملی طور پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مزدور طبقے کے حقوق کی فراہمی کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حکومت پنجاب کو چاہیے کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو فعال بنانے کے لیے سخت سے سخت احکامات اُٹھائے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ پنجاب ٹوبہ ٹیک سنگھ کی طرف سے پورے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی وہ فہرست عوام کے لیے پبلک کی جائے جس میں اس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والوں کے لیے حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق 37 ہزار روپے ماھانہ تنخواہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ پنجاب ٹوبہ ٹیک سنگھ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے سخت اقدامات اُٹھائے جائیں۔