کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان قومی اتحاد کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ طلبہ یونینوں کی 38 ویں برسی ہے اور کوئی فاتحہ پڑھنے والا بھی نہیں ہے۔ انگریز سامراج اور ظالم جاگیردار دونوں کو نوجوانوں کی طاقت سے ہمیشہ خوف رہا ہے۔ مثبت طلبہ سیاست، مستقبل کی ملکی سیاست کی نرسری ہے۔ طلبہ سیاست پر بندش کی وجہ سے بونے اور مفاد پرست سیاستدان پیدا ہو رہے ہیں جو سیاستدان نہیں بلکہ کارٹیل کے آلہ کار ہیں۔ طلبہ یونینز پر پابندی کا فائدہ موروثی سیاست کو ہوا۔ ملک میں قدرتی لیڈرشپ کا فقدان ہوگیا اور ملکی قیادت بانجھ ہوگئی۔ اسمبلیوں میں ظالم وڈیروں کا ڈیرہ ہے۔ طلبہ یونینز پر پابندی نہ لگائی جاتی تو آج ملک کی تقدیر اچھی لیڈرشپ کے ہاتھوں میں ہوتی۔ موجودہ لوٹا شاہی اور الیکٹ ایبلز کی سیاسی قیادت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اس صورت حال سے نکلنے کا واحد حل یہی ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کے انتخابات کرائے جائیں۔ طلبہ کو اپنے مسائل کے حل، غیر نصابی سرگرمیوں کے فروغ اور ملک کو تعمیر وترقی کے نئے دور سے ہمکنار کرنے کے لئے باصلاحیت، وژن رکھنے والی، کرپشن سے پاک اور نئی قیادت میسر آسکے جو عوام کو درپیش مسائل اور چیلنجز با آسانی حل کر سکے۔
پاسبان عام آدمی کو ہمت و جرأت اور حوصلہ دے کر اسمبلیوں میں بھیجنا چاہتی ہے۔ وہ گذشتہ شب پاسبان پبلک سیکریٹیریٹ میں آئے ہوئے پاسبان یوتھ ونگ کے عہدیداروں سے گفتگو کر رہے تھے۔ الطاف شکور نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں اور بیوروکریسی میں موجود وڈیرہ شاہی اور لٹیرا شاہی، نوجوان قیادت سے خائف ہے اس لئے طلبہ یونین کے انتخابات کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ اگر طلبہ یونینز پر پابندی نہ لگائی جاتی اور آئین و قانون کی خلاف ورزی اور میرٹ کی پامالی و حق تلفی کا سلسلہ جاری نہ رہتا تو آج ملک کی تقدیر اچھی لیڈر شپ کے ہاتھوں میں ہوتی۔ طلبہ یونین پر پابندی کے بعد مصنوعی، موروثی اور بھگوڑی لیڈرشپ ملک پر مسلط ہو گئی جو مشکل حالات میں اپنی پارٹی کے کارکنوں تک کو چھوڑ کر ملک سے فرار ہو کر خود ساختہ جلاوطنی کی سیاست کر رہی ہے یا پھر فرینڈلی اپوزیشن کرکے عوام کے مفادات کا سودا کر رہی ہے۔ طلبہ یونین سے پابندی سے پہلے کی لیڈرشپ نے جوانمردی سے حوالات، جیل، کوڑوں اور پھانسی کے پھندوں کا مقابلہ کیا تھا۔ طلبہ یونینوں پر پابندی کی وجہ سے ملک سے نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہو گیا اور اس کی جگہ کرپشن کی سیاست نے لے لی۔