کراچی (نوپ نیوز) جمعیت علمائے اسلام صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو، صوبائی نائب امیر مولانا عبدالکریم عابد، صوبائی ناظم مالیات مولانا محمد غیاث، صوبائی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات مولانا سمیع الحق سواتی، مولانا امین اللہ، شرف الدین اندھڑ و دیگر نے جے یو آئی پی ایس 122 کے رہنما اور گلشن معمار سیکٹر یو پارک مسجد کے امام و خطیب مولانا بشیر احمد بروہی پر ڈکیت گروپ کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر قائد میں ڈاکو راہزن بے لگام جبکہ پولیس بے بس دکھائی دے رہی ہے، شہر پر عملاً جرائم پیشہ عناصر کا راج ہے، ہر شام کسی نہ کسی گھرمیں صف ماتم بچھی ہوتی ہے، سندھ حکومت کی جانب سے امن و امان کے بلند و بانگ دعوے قلعی ثابت ہو رہے ہیں، علماء کرام اور عوام الناس پر حملے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ علامہ راشد محمود سومرو و دیگر نے کہا کہ امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی وارداتوں نے پرامن شہریوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں، سندھ حکومت نے جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، حکومت سٹریٹ کرائم اور دوسرے جرائم پر قابو پانے کے لئے سخت ترین اقدامات اٹھانے ہوں گے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ جے یو آئی رہنما مولانا بشیر احمد بروہی پر حملہ کرنے والے ڈکیت گروہ کو فی الفورگرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے،
دریں اثنا جے یو آئی پی ایس 122 کے سیکریٹری جنرل محمد شریف گبول، حبیب الرحمن باجوڑی و دیگر نے مقامی ہسپتال میں مولانا بشیر احمد کی عیادت کی، اوران کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی جبکہ واقعے کی ایف آئی آر جے یو آئی رہنماؤں نے گلشن معمار تھانے کے ایس ایچ او ریاض بھٹو کی موجودگی اور مولانا بشیر احمد کے بھائی کی مدعیت میں درج کردی۔ قبل ازیں جے یو آئی رہنما مولانا بشیر احمد بروہی اپنے مدرسے جامعہ مدینۃ العلوم تھاور مینگل گوٹھ سے نماز فجر پڑھانے کیلئے گلشن معمار جارہے تھے کہ ڈاکوؤں نے عثمان شاہ مزار کے قریب ان پر براہ راست فائر کھول دیئے، اس موقع پر مولانا بشیر احمد حملے میں شدید زخمی ہو کر گر گئے، جبکہ ڈاکو ان کی 125 موٹر سائیکل موبائل اور نقدی چھین کر فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔