کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں معروف مصنف سلطان ارشد خان کی موسیقی کے استادوں، راگ سازوں اور سازندوں کی خدمات پر مبنی کتاب ”101 میلوڈی میکرز“ کی تقریب رونمائی آرٹس کونسل آڈیٹوریم میں منعقد کی گئی، تقریب ِ رونمائی میں معروف دانشور و ادیب جاوید جبار، صدر ہم نیٹ ورک سلطانہ صدیقی، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، ارشد محمود، ایس ایم شاہد اور اداکارہ بشریٰ انصاری نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ اس موقع پر مختلف ادبی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی، سلطان ارشد کی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ اس کتاب کی تیاری میں مصنف نے 14 سال لگائے، پاکستان کی لائبریریوں میں جنگوں پر تو کئی کتابیں ہیں مگر افسوس کہ فنون و لطیفہ پر نہیں ہیں، سلطان ارشد کو میلوڈی کے تخلیق کاروں پر لکھنے کے لئے مبارکباد پیش کرتا ہوں، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے مصنف کو پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ اگر سلطان ارشد چاہیں گے تو آرٹس کونسل کراچی اس کتاب کا اردو ترجمہ شائع کرنے کی ذمہ داری لینے کو تیار ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ کتاب زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے، دانشور و ادیب جاوید جبار نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احمد شاہ کی قیادت میں آرٹس کونسل نے گزرے ماہ و سالوں میں خود کو تبدیل کر دیا ہے، آرٹس کونسل میں زبردست ترقی دیکھنے میں آرہی ہے، سلطان ارشد خان کی یہ کتاب ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا ہے، لوگ میلوڈی بنانے والوں کو یاد نہیں کرتے جو موسیقی تخلیق کرتے ہیں، گانا صرف گلوکار کے ساتھ مکمل نہیں ہوتا، یہ ہدایت کار، پروڈیوسر، سینماٹو گرافر، لائٹ مین، ساز اور بہت سے دوسرے لوگوں کا باہمی تعاون سے مکمل ہوتا ہے، سلطان ارشد نے ان 101 راگ سازوں کی کہانیاں پڑھی، مصنف نے استادوں کی گیلریاں اکٹھی کیں، ان کی دھنیں اکٹھی کیں اور ناقابل یقین میلوڈی کتاب تخلیق کی، صدر ہم نیٹ ورک سلطانہ صدیقی نے کہا کہ احمد شاہ کا شکریہ جو آرٹ اینڈ کلچر کو فروغ دیتے ہیں، احمد شاہ فنون لطیفہ کی خدمت بہت دل سے کرتے ہیں، احمد شاہ نے کتاب کا ترجمہ کرنے کی پیشکش کی ہے جس کے بارے میں مصنف کو ضرور سوچنا چاہیے، جو ان کی کتاب پڑھے گا وہ اس میں کھو جائے گا، سلطان ارشد کا اس کتاب پر بہت بڑا کام ہے، جس طرح اولاد سے بے لوث محبت ہوتی ہے سلطان ارشد کو موسیقی اور موسیقاروں سے وہی محبت ہے، ارشد محمود نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک فلم کی طرح ہے، سلطان ارشد محقق بھی ہیں، ریسرچر بھی ہیں، ان کے سامنے کسی کمپوزر کا نام کسی اور کے گانے سے جوڑ دوں تو فورا تصیح کرتے ہیں، اداکارہ بشریٰ انصاری نے کہا کہ ہمارے ہاں موسیقی کی تاریخ کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، بہت کم لوگ ہیں جو اس خوبصورت فن کو محفوظ کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو موسیقی سے ڈوب کر عشق کرتے ہیں اور سلطان ارشد خان ان ہی میں سے ایک ہیں، انہوں نے یہ کتاب لکھ کر بہت بڑا کام کیا ہے، صاحب ِ کتاب سلطان ارشد خان نے شرکاء کو شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا، ا نہوں نے کہا کہ موسیقی میں گانوں کو گلوکاروں کو تو سب یاد رکھتے لیکن ان راگ سازوں اور سازندوں کا کوئی ذکر نہیں کرتا جو گانوں کو سجاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میری کتاب کا ایک چیپٹر سازندوں کے نام ہے، اس کتاب کو مرتب کرنے میں جن افراد نے مدد کی ان سب کا شکر گزار ہوں، اس موقع پر ایس ایم شاہد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، تقریب کے آخر میں میوزیکل پروگرام کا بھی انعقاد کیا گیا تھا جس میں مختلف گلوکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا، تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ہما میر نے ادا کیے۔