تازہ ترین
Home / اہم خبریں / اگر ہم نے موجودہ حکمران کو بحیرہ عرب میں غرق نہیں کیا تو پاکستان کی بقا کا سوال پیدا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمٰن

اگر ہم نے موجودہ حکمران کو بحیرہ عرب میں غرق نہیں کیا تو پاکستان کی بقا کا سوال پیدا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمٰن

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکمرانوں سے نجات کے لئے مہم آج شروع ہوگئی ہے اور اس مہم کا اختتام اسلام آباد تک لانگ مارچ میں ہوگا، مہنگائی کے ہاتھوں عام آدمی کی یہ حالت ہوچکی ہے کہ پارلیمنٹ لاجزکے سامنے لوگوں نے اپنے بچے برائے فروخت رکھے ہیں، جن کو عوامی مسائل کا ادراک ہی نہ ہو وہ کیا حکمرانی کریں، آج ملک اور عوام مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں، سیاستدان قوم کی امید ہیں، اگر آج ہم نے اپنا کردارادا نہ کیا تو قوم معاف نہیں کریگی، پی ڈی ایم ملک کے بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور یقیناً سرخرو ہوگی، جبکہ مقررین نے حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی اصل وجہ 2018 کے الیکشن کی چوری ہے،عوام مہنگائی بے روزگاری سے پریشان ہیں، وقت نے ثابت کر دیا کہ موجودہ نظام کے تحت ملک نہیں چل سکتا، نیا نظام لانا ہوگا، تمام مسائل کا واحد حل فوری شفاف انتخابات ہیں، ادارے حقائق کو سمجھیں، حکمرانوں کو عوام کے مسائل کا ادراک نہیں ہے، قوم کی رسوائی کا سبب بننے والے حکمرانوں کو حکومت کا کوئی حق نہیں ہے۔ مہنگائی اور حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلے گی، اب جلسے بھی ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریگل چوک کراچی میں مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف پی ڈی ایم کے تحت احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرے سے، پختونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، مسلم لیگ (ن ) کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی، نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، جے یو آئی کے سیکریٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا راشد محمود سومرو، جے یو پی کے سربراہ شاہ اویس نورانی دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر مرکزی جمعیت اہلحدیث سندھ کے صدر مولانا یوسف قصوری، جے یو آئی کے مولانا عبدالکریم عابد، اسلم غوری، قاری محمد عثمان، مولانا نور الحق، مولانا سمیع الحق سواتی، مسلم لیگ (ن) کے سندھ صدر شاہ محمد شاہ، سابق گورنر سندھ محمد زبیر، علی اکبر گجر، نہال ہاشمی، مفتاح اسماعیل اور دیگر نے بھی مظاہرے میں شرکت کی۔ مظاہرے میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں کی قیادت میں کراچی بھر سے جلوسوں نے شرکت کی اور ہوشربا مہنگائی معاشی بدحالی کے خلاف مارچ کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی اورحکومت کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جو ہوا میں اڑ کر اقتدار میں آئے انہیں عوام کے مسائل کا ادراک نہیں ہے، قوم کی رسوائی کا سبب بننے والے حکمرانوں کو حکومت کا کوئی حق نہیں ہے، حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی ریلی کراچی کے بعد کوئٹہ، لاہور، پشاور اور اسلام آباد پہنچے گی۔ پاکستان میں عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت آئے گی جو ان کے مسائل کو سمجھے گی، اگر ہم نے پاکستان کو موجودہ بحران سے نہیں نکالا اور ’ناپاک اور ناجائز‘ حکمران کو بحیرہ عرب میں غرق نہیں کیا تو پاکستان کی بقا کا سوال پیدا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جہاں اقتصادی بحران آئے ہیں وہاں انقلاب نے جنم لیا ہے، پاکستان، سعودی عرب، چین کے ہاتھوں 22 کروڑ عوام کی رسوائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقتدار میں موجودہ حکمرانوں کی طرف سے عوام کے سامنے ایک فرضی دنیا بنائی گئی، جو کچھ اقتدار سے پہلے کہا گیا اور آج کے ان کے کردار کو بھی سنیں، انہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ ملک کیسے چلاتے ہیں۔ پی ڈی ایم کا سفر آج کراچی سے شروع ہوا ہے، 17 کو کوئٹہ اور 20 کو پشاور میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ لاہور کے بعد اسلام آباد جائیں گے، قوم کو ناجائز حکمرانوں سےنجات دلائیں گے، یہ حکومت چوری کے ووٹ سے آئی ہے یہ حکومت ناجائز اورنااہل حکومت ہے، حکومت کو مزید وقت دینا ملک و قوم سے زیادتی ہوگی عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے ہاتھوں عوام نے بچے فروخت کرنا شروع کر دیے ہیں، مہنگائی کے ہاتھوں عام آدمی کی یہ حالت ہوچکی ہے کہ پارلیمنٹ لاجز کے سامنے لوگوں نے اپنے بچے برائے فروخت رکھے ہیں، پارلیمنٹ لاجز کے سامنے لوگوں نے بچے برائے فروخت کے بورڈ لگا رکھے ہیں، بچوں سمیت ماں باپ خودکشی کر رہے ہیں، ایک پولیس اہلکار افسر کے سامنے 50 ہزار کے لئے بچہ دے رہا ہے، موجودہ حالات میں ہر کاروباری شخص اور فرد مایوسی سے دوچار ہے، اس ملک اور حکومت سے مایوس ہو رہا ہے، آج سیاسی قیادت نے اپنا کردار ادا نہیں کیا تو حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے اور قوم ان سے مایوس ہوجائے گی، اس بحران میں ہم نے قوم کا ساتھ دینا ہے، پی ڈی ایم قوم کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم اداروں کو بھی کہنا چاہتے ہیں کہ وہ حقائق کو سمجھیں اور اپنے کردار کا جائزہ لیں، ماضی میں جو غلطیاں ہوئی ہیں اس پر نظر ڈالیں، ادارے اپنے عمل پر شرمندگی کا اظہار کریں، قوم سے معافی مانگیں اور تب جا کر ایک قوم بن کر ملک کو بچا سکیں گے، پی ڈی ایم ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ سابق وزیراعظم شاھد خاقان عباسی نے کہا کہ چلتا ہوا پاکستان اس نہج پر پہنچا دیا کہ پوری دنیا میں کوئی ہماری بات سننے والا نہیں ہے، ملک کو مشکل وقت سے نکالنے کا واحد حل نئے انتخابات ہیں، حکومت عوام کے ووٹ سے نہیں آئی، عوام کو جس تکلیف میں مبتلا کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی، پی ڈی ایم آئین کے بالادستی کی بات کرتی ہے، پی ڈی ایم چاہتی ہے ملک کو آئین کے تحت چلائیں، عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، ہوشربا مہنگائی سے پورا ملک پریشان ہے، جہاں الیکشن چوری ہوتے ہیں وہاں اسی طرح مہنگائی ہوتی ہے، مہنگائی اور عوام کی مشکالات کا حل صرف ملک کو آئین کے مطابق چلانا ہے، تمام ادارے اپنے آئینی حدود میں رہ کر عوام کے لئے کام کریں، مہنگائی سے ہر شخص پریشان ہے، مہنگائی کی اصل وجہ 2018 کے الیکشن کی چوری ہے، وزیر اعظم کہتے ہیں دنیا بھر میں مہنگائی بڑھی ہے، وزیر اعظم صاحب ہم لندن میں نہیں پاکستان میں رہتے ہیں، یہ بتائیں کہ 30 روپے کا آٹا 80 روپے میں کیوں فروخت ہو رہا ہے، عوام مہنگائی بے روزگاری سے پریشان ہے تمام مسائل کا واحد حل فوری شفاف انتخابات ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پی ڈی ایم ہم نے ڈی چوک پر نہیں بنائی، ملکی سیاست میں گالم گلوچ عام ہوچکا ہے، ہم نے گالیاں تب بھی سنیں جب ہم انگریز بہادر کے خلاف لڑ رہے تھے، ہم گالیاں دیتے نہیں صرف سنتے ہیں، ہم نے پی ڈی ایم حکومت کو گالیاں دینے کے لئے نہیں بنائی، ہمارے بزرگوں نے بڑی جدوجہد کے بعد آئین تشکیل دیا، آئین کے تحفظ پارلینٹ کی بالادستی اورمہنگائی کے خاتمہ کے لیے میدان میں نکلے ہیں، دنیا میں کوئی نظام آئین اور قانون کے بغیر نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تشکیل اس لئے نہیں کہ مولانا فضل الرحمان بیکار بیٹھے ہوئے تھے، ہمیں اپنی ماں عزیز ہے بہن عزیز ہے اور ہم اپنے بدترین دشمن کی بھی ماں بہن کی عزت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین بالادست ہوگا تو منتخب پارلیمنٹ طاقت ور ہوگی، ہمارا مسئلہ عمران خان کی حکومت نہیں، ہمارا مسئلہ وہ ادارے ہیں جو حکومت بدلتے ہیں ، ہم نے سچ بولنے کا حلف اٹھایا ہے، یہ لوگ بلوچستان میں حکومت گرانے آتے ہیں، ملک میں ایک جمہوری حکومت کے قیام کی ضرورت ہے، ہر ادارے کا آئین موجود ہے، ہم عدلیہ کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں، پاکستان کی افواج کو دنیا کی بہترین افواج کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، ہر ادارہ آئین کے مطابق کام کرے ملک میں جمہوری منتخب حکومت ہوگی تو لوگ پیسے بھی دیں گے۔ سینٹ انتخابات میں ایک ووٹ 70 کروڑ روپے میں خریدا گیا، ہم سچ بولیں گے سچ کی جو بھی سزا ملتی ہے وہ ملے ہم سچ بولنا نہیں چھوڑیں گے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ملک میں سویلین مارشل لا ہے، کراچی نے ہمیشہ جابروں اور مارشل لا کے خلاف جدوجہد کی جس کی وجہ سے کراچی کی سیاست میں اہمیت ختم کرنے کی کوشش کی گئی، ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک کو آئین کےمطابق چلایا جائے، تمام اقوام ساحل اور وسائل کی مالک ہوں، عدلیہ پارلیمنٹ آزاد نہ ہو تو حالات بدتر ہوجاتے ہیں، انتخابات میں ٹھپہ مار روایت کو اب ترک کر دینا چاہیئے، ٹھپہ مار طریقے کو نہیں چھوڑینگے تو عوام کی منتخب کردہ اصل قیادت کبھی نہیں آئے گی،جب تک عدلیہ اور میڈیا آزاد نہیں ہوتا پارلیمنٹ کی بالادستی قائم نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں مہنگائی ہے، بے روزگاری ہے، غریب عوام رو رہی ہے، مہنگائی سے خود کشی میں اضافہ ہو رہا ہے، تمام اداروں کو آئین کے مطابق اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں، آئین کے مطابق فرائض انجام نہیں دیں گے تو نفسا نفسی میں اضافہ ہوگا، بلوچستان میں روزانہ اغوا کیے جارہے ہیں، لوگوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ جاری ہے، بلوچستان کو دیوارسے لگانے کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو حالات میں بہتری نہیں آئے گی۔ سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ مہنگائی کم ہونے کے بجائےآسمان کو چھو رہی ہے، ملک دیوالیہ ہو رہا ہے، سلیکٹیڈ حکمران پسند ناپسند کی بنیاد پر سلیکٹ کیا جاتا ہے، سلیکٹڈ وزیراعظم نہ میگا منصوبےلاسکے نہ معیشت درست کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کے نتیجے میں خودکشیاں ہو رہی ہیں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے ملک کا معاشی طور پر دیوالیہ نکل چکا ہے، سلیکٹڈ حکمرانوں نے پورے ملک کی معیشت کو آئی ایم ایف کی جھولی میں ڈال دیا ہے، سلیکٹڈ حکمران ساڑھے تین سال بعد بھی معیشت کو سہارا نہ دے سکے، کل جو کوئی بھی حکمران آئے گا تو معیشت کو سنبھالنا چیلنج ہوگا۔ شاہ اویس نورانی نے کہا کہ مہنگائی کے خلاف 17 نومبر کو کوئٹہ میں 20 نومبر کو پشاور میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا، یہ حکومت جعلی ہے اور اسے ہم پر مسلط کیا گیا ہے، لاہور کا مستانہ لڑکا وزیر اپنی پریس کانفرنس میں بار بار یہ کہہ رہا تھا کہ دن میں بس تین وقت گیس آیا کرے گی، لیڈر اور اس کے وزیر دونوں ایک جیسا نشہ کرتے ہیں جہاں گیس کی لوڈشیڈنگ ہے وہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہے، سسٹم ڈاؤن کر کے چوروں کو ایوانوں میں پہنچایا گیا، اسد عمر صاحب ہم پہلے بھی پرامن طور پر آئے تھے، تمہارا اور تمہارے باپ کا کردار پوری قوم کو معلوم ہے، برگر وزیر برگر سے کیچپ ہم نکالیں گے، ملک میں سیمی مارشل لاء نافذ ہے، پی آئی اے، واپڈا اور گیس سمیت تمام محکمے خسارے میں ہیں، موجودہ نظام کے تحت ملک نہیں چل سکتا نیا نظام لانا ہوگا۔ مظاہرے میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

اسپیکر سندھ اسمبلی سے عورت فاؤنڈیشن کے وفد کی ملاقات، خواتین کے حقوق اور بااختیار بنانے کے اقدامات پر گفتگو

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ سے عورت فاؤنڈیشن کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے