Home / اہم خبریں / بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی اگاہی کی کمی ہے، والدین یہ نہیں جانتے کہ ویکسین کتنی ضروری ہے۔ وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی

بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی اگاہی کی کمی ہے، والدین یہ نہیں جانتے کہ ویکسین کتنی ضروری ہے۔ وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی اگاہی کی کمی ہے، والدین یہ نہیں جانتے کہ ویکسین کتنی ضروری ہے، انہیں نہیں پتا کہ ایک قطرہ کیا کرسکتا ہے۔ کوووڈ کی ویکسین جن 12 سال سے زائد عمر کے بچوں کو لگ گئی ہے وہ بھی خسرہ اور روبیلہ کے ویکسین لگوا سکتے ہیں اور اس کی تصدیق ماہر ڈاکٹروں نے کر دی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جس طرح یہ دنیا ڈاکٹرز اور انجینئرز کے بغیر نہیں چل سکتی، اسی طرح ہمارے ہیلتھ ورکرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے بغیر ہم ویکسینشن کے کام کو انجام نہیں دے سکتے۔ 15 نومبر تا 27 نومبر تک سندھ بھر میں شروع ہونے والی خسرہ اور روبیلہ سے بچاؤ کی مہم کے دوران 1 کروڑ 80 لاکھ بچوں کو یہ ویکسین لگائی جائے گی اور اس کے لئے سندھ حکومت نے تمام سرکاری اسکولوں، اسپتالوں اور ڈسپنسریوں اور خصوصی مراکز قائم کر دئیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے زیر اہتمام جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں خسرہ اور روبیلہ ویکسینیشن مہم کے آغاز کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ساؤتھ ارشاد سوڈھر، ڈاکٹر عبدالرزاق شیخ، پروفیسر ڈاکٹر شاہد رسول، عاشق حسین، ڈاکٹر سارہ، ڈاکٹر جمال رضا، ڈاکٹر فرحان عیسیٰ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر تقریب میں بچوں کو خسرہ اور روبیلہ کے ٹیکے لگا کر باقاعدہ طور پر مہم کا افتتاح کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ مجھے آج تقریب میں شرکت کرکے جتنی خوشی ہو رہی ہے شاید بڑے سے بڑی تقریب میں بھی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ساؤتھ نے جہاں ملک بھر میں پولیو کے ٹیکے اور کرونا ویسکینیشن کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا ہے اور جس طرح ابھی بتایا گیا کہ اس ڈسٹرکٹ نے پورے ملک میں سب سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے مجھے 100 فیصد یقین اور امید ہے کہ خسرہ اور روبیلہ کی ویکسین میں بھی یہ ضلع اپنے سابقہ ریکارڈ کو توڑ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے ماہر ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان پیڈراٹیک کونسل کے ڈاکٹر جمال رضا کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ا نہوں نے عوام اور بالخصوص ان والدین کے دلوں میں اس خوف کو جسے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پھیلایا جارہا تھا کہ جن 12 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو کورونا ویکسین  لگ چکی ہے اسے یہ دونوں ویکسین لگائی جاسکتی ہے اور اس کے کوئی نقصان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خسرہ اور روبیلہ کے ویکسین 9 ماہ کے بچوں سے لے کر 15 سال کی عمر تک کے بچوں کو لگائی جائیں گی اور سندھ میں 15 یوم کے لئے اس مہم کے دوران 1 کروڑ 80 لاکھ بچوں کو یہ ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمارے اساتذہ ہوں یا ڈاکٹرز ہوں اور ان کی معاونت کرنے والے ہمارے ہیلتھ ورکرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف صرف نوکری نہیں کرتے بلکہ وہ انسانی خدمت اور ثواب کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی مرہون منت ہی یہ دنیا اور زندگیاں چل رہی ہیں اس لئے یہ لوگ مبارکباد اور خراج تحسین کے حقدار ہیں اور انشاء اللہ سندھ حکومت کی جانب سے بھی ان کو اعزازات اور سرٹیفیکٹ سے نوازا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں لوگ پولیو کے قطرے ہوں یا کوووڈ کی ویکسین ان کو لگانے سے گریز کرتے ہیں اور اس کے برعکس ہمارے یہ ہیلتھ ورکرز ان کے بچوں کی زندگیوں کو محفوظ کرنے کے لئے ان کے گھروں اور دروازاں پر جاکر انہیں مناتے ہیں اور ان کے بچوں کو ان بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ میں ڈبلیو ایچ او اور یونیسف کا بھی شکر گذار ہوں کہ وہ اس میں سندھ حکومت کی بھرپور مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس پورے کام کو قومی فریضہ سمجھ کر ادا کرنا ہوگا اور اس میں میڈیا، سول سوسائٹی اور والدین کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں پولیو، کوووڈ، خسرہ اور روبیلہ کی ویکسینیشن کے خلاف لوگوں کو اکسایا جاتا ہے، لیکن میں تعریف کروں گا ان ہیلتھ ورکرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف اور اس مہم سے بلواسطہ یا بلا واسطہ منسلک لوگوں کی کہ وہ نہ صرف لوگوں کو قائل کرتے ہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ نتائج حاصل کرتے ہیں۔ پی ڈی ایم کی جانب سے مہنگائی کے خلاف کراچی میں ہونے والے مظاہرے میں پیپلز پارٹی کی شمولیت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس کا حصہ نہیں بنے گی۔ پیپلز پارٹی نے ملک بھر میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف بھرپور احتجاج شروع کیا ہوا ہے اور یہ احتجاج اب بھی جاری ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ جو ہیلتھ ورکرز احتجاج پر ہیں ان سے محکمہ صحت کے مذاکرات جاری ہیں۔ اصل مسئلہ ان ہیلتھ ورکرز کا ہے، جن کو کوووڈ کی ویکسینیشن کے لئے 90 دن کے لئے رکھا گیا تھا اور اب ان کے مطالبات دیگر ہیں۔ 25 ہزار سے کم اجرت ان ہیلتھ ورکرز کو دئیے جانے کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ سندھ کابینہ نے کم سے کم اجرت 25 ہزار روپے مختص کر دی ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ نے اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں کہ سرکاری محکموں میں لازمی طور پر اس بات کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہم نجی شعبوں کو بھی اس کا پابند کرسکیں اور اس حوالے سے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ملک میں مہنگائی کے حوالے سے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ مہنگائی اس موجودہ نالائق اور سلیکٹیڈ حکومت کے دور میں کسی عذاب سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی یہاں مہنگی کردی گئی لیکن دستیاب نہیں اور اب ملک کی تاریخ میں کبھی نہ ہوا ایسی نوید سنائی جارہی ہے کہ اب لوگوں کو گیس صرف تین وقت کھانا بنانے کے لئے ملے گی  اور بدقسمتی سے یہ دن ہمیں اس نالائق  اور نااہل حکمرانوں کے باعث دیکھنے پڑ رہے ہیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے