تازہ ترین
Home / اہم خبریں / مہنگائی کے بعد قرضوں کا بوجھ بھی عوام اٹھائینگے، تعلیم کو صرف روزگار کا زریعہ سمجھنا غلطی ہوگی۔ آفاق احمد

مہنگائی کے بعد قرضوں کا بوجھ بھی عوام اٹھائینگے، تعلیم کو صرف روزگار کا زریعہ سمجھنا غلطی ہوگی۔ آفاق احمد

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) گزشتہ شب ضلعی عہدیداروں کی تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے آفاق احمد نے کہا کہ تعلیم کو جو لوگ روزگار کا زریعہ سمجھتے ہیں وہ اپنے اور اپنی قوم کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں، تعلیم یقیناً روزگار کے حصول اور ترقی میں مددگار ثابت ہوتی ہے لیکن تعلیم کو صرف روزگار کا زریعہ سمجھ لینا غلطی ہوگی، مہاجر قوم کو اسکے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور امتیازی سلوک سے نمٹنے کیلئے باصلاحیت نوجوانوں کی ضرورت ہے اس لئے مہاجر نوجوان تعلیم کے حصول اور اسکے زریعے اپنی صلاحتیوں میں اضافے پر توجہ مرکوز رکھیں۔ آفاق احمد نے انٹر میڈیٹ پری انجینئرنگ کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امتحان میں 24170 طلباء نے شرکت کی ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان طلباء کے انکی تعداد کے حساب سے مزید کالجز اور یونیورسٹیز بنائی جاتیں بورڈ نے ڈگری کالجز اور یونیورسٹیز کی کراچی میں کمی کی وجہ سے 57 فیصد طلباء کو سی، ڈی اور ای گریڈ میں پاس کرکے آگے تعلیم کے حصول سے محروم کرکے انکے مستقبل پر تالا لگا دیا۔ آفاق احمد نے کہا کہ حکمران قرضوں کے حصول کیلئے آئی ایم ایف کی ہر شرط مان کر اپنی عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس رہے ہیں، تمام شرائط مان کہ جب حکومت قرضوں کے حصول میں کامیاب ہوجائیگی تب بھی اس نظام حکومت میں عوام کی تقدیر نہیں بدلے گی آج جو عوام مہنگائی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں کل قرضوں کا بوجھ بھی یہی عوام اٹھائینگے۔ آفاق احمد نے کہا کہ جب تک ملک کا نظام بانیان پاکستان کے ہاتھوں میں رہا ملک نے ترقی کی لیکن منظم سازش کے تحت مہاجروں کو رویوں اور امتیازی سلوک کے زریعے قومی دھارے سے الگ کر دیا اور مسلسل تباہی کی صورت میں اسکے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ آفاق احمد نے ضلعی عہدیداران کو ہدایت کی کہ وہ تعلیم کے حصول میں قابل اور مستحق طلباء کی مدد کو یقینی بنانے کیلئے مربوط حکمت عملی بنائیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے