کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی پریس کلب میں جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوۓ کہا کہ کراچی پولیس چیف ڈاکٹرامیر شیخ سے ملاقات ہوئی جن میں جمیعت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء قاری شیر افضل، مولانا عمر صادق سابق ایم پی اے ، حافظ محمد نعیم سابق ایم پی اے، مولانا اقبال اللہ، حافظ احمد علی، مولانا حضرت ولی ہزاروی، مولانا عبدالستار مدنی، مولانا ولی شاہ، قاری غلام یاسین، علامہ عبدالستاربلوچ، قاری محمد سعید، قاری عبدالوہاب انقلابی، مفتی حماد مدنی، مفتی فیضان احمد شریک ہوئے۔ کراچی پولیس چیف نے علماء اکرام سے گزارش کی کے 4 اکتوبر کو پولیس ہیڈ آفس پر ہونے والے دھرنا آپ ملتوی کر دیں۔ آپ کی ہر شکایات کا بھر پور ازالہ کیا جائے گا، وفد نے ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان اوراس کی اسپیشل پارٹی کے انچارج ضلعدار کے خلاف گھروں میں لوٹ مار ڈاکہ زنی کے واقعات اور ناجائز زمینوں پر قبضہ کی منصوبہ بندی اور شہریوں کے اوپر چرس اور اسلحہ کے جھوٹے مقدمات اور پاک کالونی تھانے سے سرکاری مال خانہ سے موٹر سائکل چوری ہونے اور بیچنے کے واقعات اور اس چوری کے مرکزی ملزم ڈاکٹر رضوان کی عدم گرفتاری اور عدم برطرفی پر توجہ دلوائی اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماء حافظ احمدعلی کو بلیک میل کرنے اور جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی سازش اور فرض شناس پولیس افسران کے خلاف جھوٹی رپورٹیں بنانے کی طر ف توجہ مبذول کروائی۔ ڈاکٹر امیر شیخ نے وفد کی بات توجہ سے سنی اور ڈی آئی جی سی آئی اے اور ڈی آئی جی ویسٹ سے تین دن میں رپورٹ طلب کرلی ہے، ڈاکٹر امیر شیخ نے جمعیت علماء اسلام کے علماء سے درخواست کی کے آپ حضرات دھرنا ختم کردیں اور میں آپ حضرات کی ملاقات آئی جی صاحب سے بھی کرواتا ہوں۔ جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے مزاکرات کے بعد 4 اکتوبر کو ہونے والا دھرنا ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ساتھ اس بات کا بھی اعلان کیا ہے کہ اگر ڈاکٹر رضوان کے خلاف کوئی کاروائی نا کی گئی تو دوبارہ دھرنے کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا اور وہ دھرنا کراچی میں تاریخ ساز دھرنا ہوگا، جس میں متحدہ مجلس عمل اور دفاع پاکستان کونسل میں شامل تمام جماعتوں کو مدعو کیا جائیگا-
![]()