کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیراعظم کے معاون خصوصی و چیف وہپ قومی اسمبلی عامر ڈوگر کی سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے دفتر آمد، اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے استقبال کیا، ایم این اے جے پرکاش لوہانا، ایم پی اے ملک شہزاد اعوان، شاہنواز جدون، سردار محمد علی ہکڑو بھی موجود، معاون خصوصی ملک عامر ڈوگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی سندھ اسمبلی میں آج اراکین اسمبلی سے ملاقات کی ہے، حیرت کی بات ہے سندھ میں اپوزیشن کو کسی کمیٹی میں نمائندگی نہیں دی گئی، پی اے سی کا چیئرمین بھی اپوزیشن لیڈر کو نہیں بنایا گیا، کسی اسٹینڈنگ کمیٹی میں اپوزیشن کی نمائندگی موجود نہیں، قومی اسمبلی میں ہر ممبر تین اسٹینڈنگ کمیٹیز کا ممبر ہے، 20 سے زائد اہم کمیٹیوں کے چیئرمین اپوزیشن کے ہیں، جمہوریت کی دعویدار پی پی صرف دعوے کر رہی ہے، سندھ میں انہوں نے ڈکٹیٹر شپ قائم کی ہوئی ہے، قومی اسمبلی میں ان کا چہرہ عوام کو دکھائیں گے، چارٹر آف ڈیموکریسی میں طے ہوا تھا کہ پی اے سی کا چیئرمین اپوزیشن کا ہوگا، اربوں روپے کی کرپشن کو جانچنے کے لیے فریال تالپور اور شرجیل میمن کو نمائندگی دی گئی ہے، دو سال سے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ جاری نہیں کی گئی، سال دو ہزار 18 اور 19 میں 222 ارب کی کرپشن کا ذکر ہے، سال 2019 اور 20 میں 282 ارب کی کرپشن سامنی آچکی ہے، اس سال بجٹ تقریر میں میں نے 5665 ارب کا ذکر کیا، جو 2008 سے لیکر 2020 تک سندھ حکومت کو ملے، وہ پیسے آصف زرداری اور ان کے حواریوں کی جیبوں میں گئے، سندھ میں ہر طرف بدحالی بے انتظامی اور جنگل کا قانون ہے۔ دوسری جانب قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے مہمانوں کو سندھی ٹوپی اور اجرک کے تحائف پیش کیئے۔