ایبٹ آباد (رپورٹ: اصغر شاہ) کمشنر ہزارہ ڈویژن ریاض خان محسود اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ہزارہ ریجن میرویس نیاز نے ناران واقعہ کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس کی، پریس کانفرنس میں ڈی پی او مانسہرہ آصف بہادر، ڈی سی مانسہرہ ڈاکٹر قاسم اور ضلع ایبٹ آباد کے پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے نمائندگان نے شرکت کی۔ کمشنر ہزارہ ڈویژن ریاض خان محسود نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم، وزیر اعلی اور چیف جسٹس کی ہدایات کے مطابق آپریشن کر کے 6 ہزار کیبن، 6 ہوٹلز، اور 22 غیر قانونی عمارتوں کو قوانین کی خلاف ورزی پر گرایا اور تقریبا 4 ارب مالیت کی 8 سوکنال سرکاری اراضی قابضین سے واگزار کرائی گئی آپریشن کے دوران ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر پتھراؤ اور فائرنگ کرنے اور سرکاری مشینری کی توڑ پھوڑ کرنے پر 50 شرپسند عناصرکو گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے ڈی آئی جی ہزارہ میرویس نیاز کی سربراہی میں بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کو کنٹرول کرتے ہوئے کشیدگی کو مزید پھیلنے سے بچایا جس پر ڈی آئی جی ہزارہ ڈی پی او مانسہرہ اور انکی پوری ٹیم کو خراج تحسین کے مستحق ہیں، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ہزارہ ریجن میرویس نیاز نے کہا کہ ناران میں کچھ شرپسند عناصر نے پرامن ماحول کو خراب کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تجاوزات کیخلاف جاری آپریشن میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے جس سے ہمارے ڈی ایس پی بالاکوٹ یاسین احمد جنجوعہ اور ایک کانسٹیبل کو گولی لگی جس سے وہ شدید زخمی ہوئے اس کے علاوہ انکی جانب سے پتھراؤ، جلاؤ گھیراؤ کیا گیا زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے والی ایمبولینس اور تین دوسری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاحوں کو سڑک بلاک کرکے تکلیف پہنچائی گئی لیکن اس کے باوجود پولیس کی جانب سے کسی فرد واحد کو نقصان نہیں پہنچایا گیا بلکہ مذاکرات کے زریعے کشیدگی کو ختم کیا گیا اور اب تمام تر حالات کنٹرول میں ہیں اور پرامن ہیں۔ پولیس انتظامیہ کے افسران اور اہلکاروں پر فائرنگ و پتھراؤ کرنے اور سرکاری مشینری کو نقصان دینے والے شرپسند عناصر کیخلاف قانونی کارروائیاں کی گئی ہے اور مزید کی جائیں گی۔