تازہ ترین
Home / اہم خبریں / اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کیلئے اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہوگا۔ آئی جی پولیس سندھ مشتاق مہر

اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کیلئے اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہوگا۔ آئی جی پولیس سندھ مشتاق مہر

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) انسپکٹر جنرل پولیس سندھ مشتاق احمد مہر نے شہر قائد میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافہ ضرور ہوا ہے جسے کنٹرول کرنے کے لئے صنعتکاروں سمیت اسٹیک ہولڈرز کو باہمی تعاون کے ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہوگا اور ساتھ ہی آئی جی سندھ نے دعویٰ کر دیا کہ کشمور کو جرائم سے پاک کردیا ہے اور کچے میں آپریشن جاری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کاٹی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر، صدر سلیم الزماں، کائٹ لمٹیڈ کے چیف ایگزیکٹو زبیر چھایا، کاٹی کی لاء اینڈ آرڈر کمیٹی کے چیئرمین دانش خان نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں ایڈیشنل آئی جی کراچی عمران یعقوب منہاس، ڈی آئی جی ٹریفک اقبال دارا، ڈی آئی جی ایسٹ نعمان احمد صدیقی، ایس ایس پی کورنگی شاہجہاں خان، ایس ایس پی ٹریفک کورنگی لطیف احمد صدیقی، ایس پی لانڈھی شاہنواز چاچڑ اور دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔ آئی جی سندھ مشتاق مہر نے کہا کہ سندھ پولیس کے 28 سے 30 جوان شہید ہوچکے ہیں، پولیس فنڈز سے شہداء کی امداد جاری ہے، پولیس ویلفیئر بورڈ میں ہم نے نجی شعبے کو بھی شامل کیا ہے اورہماری خواہش ہے کہ بورڈ میں کاٹی کا ایک نمائندہ بھی شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے رہائشی اور صنعتی علاقوں میں اسٹریٹ کرائم کی شرح میں اضافہ ضرور ہوا ہے، لیکن اس کی روک تھام کے لئے صنعتکاروں سمیت پولیس کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہوگا۔ آئی جی سندھ مشتاق مہر نے دعویٰ کیا کہ کچے میں آپریشن روکنے کا تاثر غلط ہے اور کچے کے علاقے میں آپریشن جاری ہے جبکہ ضلع کشمور کو جرائم سے تقریباً پاک کردیا گیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں کلفٹن تھانے میں ہونے والے واقعہ پر کہا کہ اس طرح کے چھوٹے موٹے معاملات ہوتے رہتے ہیں، ایسے واقعات کو ایشو نہیں بنانا چاہیئے، تاہم اس واقعے کی تحقیقات ہو رہی ہے۔ ایس ایم منیرنے کہا کہ پولیس کے شہداء کے لئے ایک فنڈز قائم ہونا چاہیئے، ہم نے ماضی میں بھی شہداء کے فنڈز میں رقوم جمع کرائیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم کو قابو کرنے کی ضرورت ہے، اسٹریٹ کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات لمحہ فکریہ ہیں، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس اور چندے دیتا ہے اس لئے کراچی کو اس کا حق دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا بجٹ بزنس فرینڈلی ہے، فیصلوں سے اچھے نتائج کے ساتھ معیشت میں بہتری ہوگی، آنے والے وقت میں پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہوگا۔ صدر کورنگی ایسوی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری سلیم الزماں نے کہا کہ کراچی میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا جسے کنٹرول کرنا ضروری ہے، کورنگی صنعتی ایریا ملک کی معاشی بیک بون کی حیثیت رکھتا ہے، ملک کی 78 فیصد تیل کی ڈیمانڈ کاٹی علاقے سے پوری ہوتی ہے، صرف کورنگی صنعتی ایریا کو بند کردیں پورا ملک بند ہوجائے گا، اس علاقہ کی اپنی اہمیت ہے، ملک کے کئی بڑے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کورنگی صنعتی ایریا میں موجود ہیں۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے لاء اینڈ آرڈر دانش خان نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں پر ہیلمٹ کی دوبارہ پابندی کرائی جائے اور سائیڈ شیشے بھی ضروری لگوائے جائیں تاکہ وہ حادثات سے بچ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال ملک کی ایکسپورٹ نے نئے ریکارڈ بنائے اور یہ سب لاء اینڈ آرڈر کی بہتر صورتحال کی وجہ سے ہوا، کووڈ کے مشکل حالات میں بھی ہم نے ریکارڈ ٹارگٹ حاصل کیا، کراچی کی آبادی 3 کروڑ سے زائد ہے اور ملک کی ایکسپورٹ میں 54 فیصد حصہ ادا کرتا ہے، کووڈ میں بیروزگاری کے باعث اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا۔ زبیر چھایا نے کہا کہ پورے شہر سمیت کاٹی کے علاقے میں بھی اسٹریٹ کرائم کے واقعات بڑھ رہے ہیں، ماس ٹرانسزٹ منصوبہ نہ ہونے سے لوگ موٹرسائیکل پر آتے ہیں اور لوٹ مار کرکے چلے جاتے ہیں، اتنی زیادہ موٹر سائیکلیں ہونے سے چوری میں بھی اضافہ ہوگیا ہے، ہمارے پولیس کے شہدا نے قربانیاں دے کر اس شہر کی رونقیں بحال کی تھی، مہران ٹاؤن کے مسائل پر قابو پایا گیا ہے، کراچی نے بہت برا وقت دیکھا ہے، خام مال کے پورے پورے ٹرک غائب ہوجاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بارش میں کورنگی صنعتی علاقے میں بدترین ٹریفک جام ہوجاتا ہے، پارکنگ مافیا ٹریفک جام کا بڑا سبب ہے، ڈھابہ ہوٹل اور جھگی ہوٹل جرائم کا گڑھ ہیں جنہیں ختم کیا جانا چاہیئے، غلط سمت میں آنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے، کورنگی میں 300 سے 350 پولس کی نفری کی کمی ہے، نفری پوری کی جائے گی تو حالات بہتر ہوجائینگے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے