تازہ ترین
Home / اہم خبریں / بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام 106 سڑکوں کی تزئین و آرائش اور بیوٹیفکیشن کے لئے ابتدائی سروے مکمل کرلیا گیا۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام 106 سڑکوں کی تزئین و آرائش اور بیوٹیفکیشن کے لئے ابتدائی سروے مکمل کرلیا گیا۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام 106 سڑکوں کی تزئین و آرائش اور بیوٹیفکیشن کے لئے ابتدائی سروے مکمل کرلیا گیا ہے اور مختلف اداروں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ ان سڑکوں کو خوبصورت بنانے، مونومنٹ تعمیر کرنے اور شہریوں کی سہولت کے لئے اپنے آئیڈیاز دیں تاکہ ان پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان سڑکوں کو خوبصورت، دلکش اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے، یہ بات انہوں نے اپنے دفتر میں شہر کی بیوٹیفکیشن اور تزئین و آرائش کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر سینئر ڈائریکٹر کو آرڈینیشن خالد خان، ڈائریکٹر جنرل ورکس شبیہ الحسنین زیدی، ڈائریکٹر جنرل پارکس طحہٰ سلیم، فیض قدوائی اور دیگر افسران بھی موجود تھے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ ان سڑکوں کی بہتری کے لئے ایک ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں کے ایم سی کے افسران کے علاوہ شہر کی معروف شخصیات اور تخلیقی ذہن کے حامل معززین کو شامل کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ جو افراد کراچی کی شاہراہوں کے حوالے سے کسی بھی قسم کے آئیڈیاز دینا چاہیں انہیں بھی ہم خوش آمدید کہیں گے، انہوں نے کہا کہ شارع فیصل، شاہراہ پاکستان، راشد منہاس روڈ اور دیگر بڑی شاہراہوں کی تزئین و آرائش کرکے ایک بہتر ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ کراچی ایک بین الاقوامی شہر ہے اور اس شہر کو دنیا میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی، سہولتیں اور تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہئے اور اس شہر کا مجموعی تاثر ایک بین الاقوامی شہر کا ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ کراچی کی سڑکوں سے ہمیں اس شہر کی تہذیب و ثقافت کا اندازہ ہوتا ہے جبکہ یہ سڑکیں کراچی کی تاریخ بھی بیان کرتی ہیں، انہوں نے کہا کہ کراچی کی ماضی انتہائی شاندار ہے اور ایک زمانے میں کراچی کی سڑکیں روزانہ دھلا کرتی تھیں اور مٹی کے تیل سے چراغ روشن کئے جاتے تھے، انہوں نے کہا کہ آج تمام جدید سہولتیں موجود ہیں لیکن بد قسمتی سے ان سے استفادہ نہیں کیا جاسکا، انہوں نے کہا کہ یہ سڑکیں ویران نظر آنے کے بجائے پر رونق نظر آنی چاہئیں رات میں روشن ہونی چاہئیں اور ہماری تہذیب و ثقافت کے رنگ ان سڑکوں پر نظر آنے چاہئیں، انہوں نے کہا کہ کچھ اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اپنے اپنے آئیڈیاز دیئے ہیں جن کا جائزہ لے کر جلد ہی عملد رآمد شروع کر دیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ شارع فیصل ایئر پورٹ روڈ ہونے کی وجہ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اسی لئے بیوٹیفکیشن کا کام اسی شاہراہ سے شروع کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی کا ایک بہتر امیج سامنے آنا چاہئے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے شہریوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اپنے شہر کو خوبصورت بنائیں، شجر کاری میں حصہ ڈالیں اور املاک کی حفاظت کریں اور اگر کوئی املاک کو نقصان پہنچاتا ہوا نظر آئے تو ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے انہیں شہر کا حلیہ بگاڑنے سے روکیں، یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اپنے شہر کو صاف ستھرا اور سرسبز بنائیں۔ کیوں کہ ہم سب کا مستقبل اسی شہر سے وابستہ ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے