Home/اہم خبریں/کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کیخلاف کیا جانے والا آپریشن محض ایک ڈرامہ ہے، ڈی آئی جی شکارپور کی تبدیلی پر تحفظات ہیں۔ رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر
کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کیخلاف کیا جانے والا آپریشن محض ایک ڈرامہ ہے، ڈی آئی جی شکارپور کی تبدیلی پر تحفظات ہیں۔ رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء و رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر نے کہا کہ شکارپور میں کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کیخلاف کیا جانے والا آپریشن محض ایک ڈرامہ ہے سندھ حکومت نے ڈی آئی جی شکارپور ناصر آفتاب اور سعود مگسی کے جانے کے بعد ڈاکوؤں کو تحفظ فراہم کیا ہے آئی جی سندھ اور وزیراعلیٰ نے افسران کے تبادلے کرکے کئی سوالات اٹھا دیئے ہیں یہ پولیس افسران وزیراعلیٰ کی جی حضوری کے بجائے اپنی ڈیوٹی ایمان داری سے سرانجام دے رہے تھے آپریشن کے حوالے سے افسران اپنا کام بہترین انجام دے رہے تھے راجہ اظہر نے اپنے جاری کردہ بیان میں مزید کہا کہ سندھ حکومت کی نیت میں نہیں ہے سندھ سے ڈاکوؤں کا خاتمہ ہو سندھ میں کچے کے علاقوں میں بیٹھے ڈاکوؤں کے ساتھ سیاسی شخصیات کے رابطے ہیں سندھ میں پی پی کے پکے ڈاکو کچے کے ڈاکوؤں کی حفاظت کرتے ہیں سندھ میں پولیس کے نظام میں بد عنوانیاں آئی جی کی ناک کے نیچے کی جارہی ہیں سندھ میں محکمہ پولیس سب سے زیادہ بدنام ہے پولیس کے محکمے میں کئی کالی بھیڑیں موجود ہیں آئی جی سندھ تمام معاملات کا علم رکھتے ہوئے بھی کاروائی عمل میں نہیں لاتے سندھ حکومت اور آئی جی سندھ کی وجہ سے سندھ میں امن و امان کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے پچھلے تین ماہ کے دوران، سکھر اور لاڑکانہ ریجن میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے تین ماہ میں 300 سے زیادہ افراد زخمی ہوچکے ہیں، 70 سے زائد افراد اغوا ہوچکے ہیں، 400 سے زائد ڈکیتیاں ریکارڈ ہوئی ہیں، چاچڑ قبیلے کے دس افراد کو ڈاکوؤں نے قتل کیا 450 سے زائد افراد ابھی تک ان جھگڑوں میں قتل ہوچکے ہیں شکارپور سابقہ ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان نے جنوری 2020 میں ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں انہوں نے واضح بتایا تھا کہ سندھ میں جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی پی پی کے وزیر کرتے ہیں راجہ اظہر نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت سے آئی جی سندھ کی فوری تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں سندھ کے عوام کی بہتری اور تحفظ کیلئے آئی جی سندھ کی تبدیلی بے حد ضروری ہے۔