ایبٹ آباد (رپورٹ: عتیق سلیمانی) کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر الاسلام نے شہری دفاع کے ادارے کو موثر اورفعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں غیر ذمہ دارانہ طرز زندگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے سنگین قدرتی آفات کے امکانات بڑھ رہے ہیں جس پر قابو پانے کے لیے شہری دفاع اور دیگر امدادی اداروں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری دفاع کے ادارے کو مضبوط اور فعال بنا کر شہریوں کو قدرتی آفات اور حادثات وغیرہ سے نپٹنے کے لیے قابل بنایا جاسکتا ہے جو درحقیقت فلاح انسانیت کے ضمن میں بہت بڑی خدمت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز شہری دفاع کے عالمی دن کے موقع پر ڈسٹرکٹ کونسل ایبٹ آباد میں ضلعی انتظامیہ کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد مجتبیٰ برہانہ، ڈسٹرکٹ ایجو کیشن آفیسر قاضی تجمل، امان اللہ خان سی ڈی او تنظیم شہری دفاع، ڈپٹی چیف جی ایم صمصان، ایڈیشنل چیف خالد وحید قریشی، سابق ڈیفنس آفیسر غلام سرور، ڈپٹی ڈی ای او تنویر، اسکولوں کے پرنسیپل، ہیڈ ماسٹر، اساتذہ، ضلعی محکموں کے افسران، طلبہ اور شہری بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔ کمشنر ہزارہ سید ظہیر الاسلام نے اپنے خطاب میں کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے میں امدادی اور بحالی کے تین الگ الگ ادارے کام کر رہے ہیں تاہم کسی ہنگامی صورتحال یا قدرتی آفت کی صورت میں شہریوں کو اپنی مدد آپ قا بل بنانے کے حوالے سے محکمہ شہری دفاع کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کو دوسرے اداروں سے زیادہ موثر اور فعال ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شہری دفاع جیسے اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہری دفاع کے ادارے کو اپنی اہمیت اور افادیت تسلیم کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ جس کے بعد ہی اس ادا رے کو ریسکو 1122 جیسی سہولیات دستیاب ہونگی۔ کمشنر ہزارہ نے کہا کہ حکومت میں شہری دفاع جیسے ادارے عوامی خدمت اور حفاظت کے لیے قائم کر رکھے ہیں۔ چنانچہ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام وسائل بروۓ کار لانا اس ادارے کا اولین فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یو م شہری دفاع بنانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس موقع پر شہری دفاع کے ماہرین اور رضاکاروں کی صلاحیتوں کو عام شہریوں کے تحفظ کے لیے استعمال کرنے کاعہد کیا جائے۔ کمشنر ہزارہ نے ہنگامی حالات میں نمٹنے کے لئے شہری دفاع کے اہلکاروں اور رضا کاروں کو جدید تربیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ادارہ شہری دفاع کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اس ادارے پر عوام کا اعتماد قائم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری دفاع انسانیت کی بہت بڑی خدمت بھی اسی لئے اس شعبے کے عظیم مقاصد کو محض سرکاری امور انجام دہی سے بالاتر ہوکر بھی دیکھنا چاہیے تاہم انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے جدید خدمت اور خلوص نیت کی بھی ضرورت ہوگئی جس پر کوئی مالی وسائل خرچ نہیں ہوتے تقریب کے اختتام پر ڈسٹرکٹ کونسل ہال سے ٹی ایم اے تک عا لمی یو م شہری دفاع کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے ایک ریلی بھی نکالی گئی۔
![]()