راجن پور (رپورٹ: انعام باری) جمعیت علمائے اسلام اور دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا حامد الحق حقانی نے کہا ہے کہ قطر معاہدہ میں کیڑے نکالنے والے افغانستان میں جاری خونریزی کو ختم نہیں کرنا چاہتے، طالبان کو ٹیبل پر لانے میں میرے والد شہید مولانا سمیع الحق کا بڑا کردار ہے، انہوں نے اپنے سر پر شہادت کا تاج تو سجادیا لیکن طالبان کی سرپرستی کو نہیں چھوڑا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ ضلع بہاولپور اور ضلع راجن پور میں کارکنوں کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مولانا حامد الحق حقانی نے بہاولپور میں جامعہ نظامیہ میں ضلعی امیر مولانا شمس الدین انصاری کی عیادت کی اور علماء سے مختصر خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی تو ان کی بہت بڑی غلطی ہوگی اور دنیا کے اندر اس سے بڑھ کر رسوائی کا سامنا کرے گا، مولانا حامد الحق نے احمد پور شرقیہ میں جمعیت علمائے اسلام کے دو مخلص رہنماؤں مولانا محمد احمد محمودی اور مولانا محمد اسلام قریشی کے لئے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی، یہاں ضلع بہاولپور جمعیت کے ضلعی شوریٰ کے اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی، اس موقع پر جنوبی پنجاب جنرل سیکرٹری مولانا عتیق الرحمن ارشد نے مولانا محمد عمر قریشی کو ضلعی جنرل سیکرٹری اور مولانا راشد محمود انصاری کو ضلعی سیکرٹری اطلاعات کو مقرر کیا، مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولاناسید محمد یوسف شاہ نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ جہاد افغانستان کے شہید مولانا سمیع الحق شہید کا نظریہ اور مشن عوام تک پہنچائیں، انہوں نے کہا کہ آج مولانا سمیع الحق شہید کے روحانی بیٹوں نے مولانا کی شہادت کا بدلہ استعماری قوتوں سے لے لیا، آج ان کی روح قبر میں خوش ہوگی۔ مولانا حامد الحق نے دوسرے دن ظاہر پیر میں تحصیل امیر مولانا محمد رفیق کی طرف سے دئیے گئے استقبالیہ میں شرکت کی اور علماء اور معززین علاقہ سے موجودہ ملکی اور بین الاقوامی سیاسی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ قطر معاہدہ میں پاکستان، قطر، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کا کردار قابل تحسین ہے، اس سے استحکام کا ایک نیا دور شروع ہوگا، جو پاکستانی قوم کے لئے خوش آئندہ ہے، انہوں نے اپنی پارٹی جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے آج ان کی اپیل پر پورے ملک میں یوم تشکر منایا۔ راجن پور میں مولانا حامد الحق نے جمعیت کے سرپرست معروف روحانی شخصیت حضرت مولانا پیر سیف الرحمن درخواستی کے قائم کردہ عظیم دینی ادارہ جامعہ شیخ درخواستی میں ان کی قبر پر فاتحہ پڑی اوران کے دینی اور سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
![]()