کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین خلیل احمد تھند نے کہا ہے کہ زینب الرٹ ریسپانس اینڈ ریکوری بل کی منظوری خوش آئند ہے جس کے تحت بچوں سے متعلق جرائم کے کیسز کا فیصلہ تین ماہ کے اندر کرنا ہوگا۔ ایسے تمام محرکات کا تدارک کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جائے جو ان جرائم کی وجہ بن رہے ہیں۔ پوری قوم کو ایسی ذہنیت کے حامل افراد پر نگاہ رکھنی ہوگی۔ بچوں کے لاپتہ یا گم ہونے کے واقعات کو جدید انداز میں کنٹرول کیا جائے۔ بچوں کے اغواء اور زیادتی کے مجرم کسی رعایت اور نرمی کے نہیں بلکہ سر عام پھانسی کے مستحق ہیں۔ قانون سازی مکمل کر کے بل پرعمل درآمد یقینی بنایا جائے اور ایسے درندوں کو ہفتوں میں نہیں دنوں میں عدالتوں سے سزا دلوا کر سر عام پھانسیاں دی جانی چاہئیں۔ واقعات میں ملوث ہر فرد چاہے وہ کتنی بھی بڑی شخصیت ہو، کے خلاف سخت سے سخت فوری کاروائی کی جائے۔ کاروائی میں نرمی یا رعایت دینے والے افسران کو بھی تادیبی کاروائی میں شامل کیا جائے۔ زیادتی کرنے والے اور ملوث افراد کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل کراچی سے جاری کردہ بیان میں خلیل احمد تھند نے کہا کہ ہمارے بچے، ہمارا مستقبل بہت بڑے خطرے سے دوچار ہیں۔ بڑھتے ہوئے اغواء، زیادتی اور قتل کے واقعات کے تدارک، سد باب اور روک تھام کے لئے قصوروار مجرموں کو بھیانک سزائیں دی جانی ضروری ہیں۔ کیونکہ زینب الرٹ بل پاس ہونے کے بعد پہلے مجرم کو سزا سنانے کے باوجود زیادتی اور بعد ازاں قتل کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ ان مجرموں کو کسی قسم کا خوف نہیں ہے۔ ایسے تمام کیسز کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے تمام ملوث مجرموں کو بھیانک اور عبرت ناک سزائیں دی جائیں تاکہ دوسرے لوگ ان سے سبق سیکھیں۔ ملک میں جنسی زیادتی اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے بیشمار واقعات سامنے آئے ہیں، کچھ پر کاروائی ہوئی ہے کچھ پر نہیں۔ جن کیسز میں کاروائی ہوئی ہے ان میں بھی کچھ مجرم با آسانی رہا ہوچکے ہیں ہیں اور کچھ کو معمولی سزائیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے اس طرح کے شرمناک واقعات بجائے کم ہونے کے بجاۓ بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یقینا قانون ی سزا میں کوئی ایسا پہلو رہ گیا ہے جس سے جرائم کے بڑھنے میں مجرموں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں زینب الرٹ، ریسپانس اینڈ ریکوری بل کی منظوری سے اس قسم کے واقعات کی روک تھام ہو سکے گی۔ خلیل احمد تھند نے مزید کہا کہ ہمارے حکمرانوں، عدالتوں، میڈیا اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو زیادتی اور درندگی کے شکار ان بچوں کے والدین کے درد کو سمجھتے ہوئے ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے ان جرائم کا جڑ سے خاتمہ ہو سکے۔ قصور کی زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل کے بعد بھی ہزاروں کی تعداد میں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں لیکن کسی درندے کو سزا نہیں ملی سوائے زینب کے قاتل کے۔ اس درندے کو بھی جو سزا ملی وہ دوسرے جانوروں کے لئے نشان عبرت نہ بن سکی۔ ایسے مجرموں کو اگر نشان عبرت بنانا ہے تو انہیں چوکوں اور چوراہوں میں سر عام پھانسی دی جائے۔ اگر زینب کے قاتل کو اسی طرح کی سزا دی جاتی تو دوسرے کئی بچے اور بچیاں زیادتی اور قتل سے بچ جاتے۔ سزا کا مقصد معاشرے میں جرم کے خلاف ڈر اور خوف پیدا کرنا ہوتا ہے جو بچوں کو ہر قسم کے استحصال سے محفوظ رکھنے اور ان جرائم کو کینسر بننے سے روکنے کے لئے ضروری ہے۔ خلیل احمد تھند نے بچوں کے ساتھ زیادتی و قتل کے واقعات کی روک تھام کے لئے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ ملکی میڈیا کے ذریعے اس مسئلے پر آگاہی مہم چلائی جائے۔ بچوں کو اس قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لئے تربیت دی جائے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد میں اضافہ کیا جائے۔ ملک میں بچوں سے متعلق قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ واقعات کی روک تھام کے لئے سخت قوانین بنائے جائیں اور پہلے سے موجود قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے کیونکہ قانون کا خوف جرائم کے سد باب کا واحد ذریعہ ہے۔
![]()