Home / اہم خبریں / سندھ حکومت نادرا کی مدد سے ساڑھے 6 لاکھ ورکرز کا اسمارٹ کارڈ بنائے جائیں گے، مزید یونین کونسل کو بااختیار بنانے جار ہے ہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم و محنت سعید غنی

سندھ حکومت نادرا کی مدد سے ساڑھے 6 لاکھ ورکرز کا اسمارٹ کارڈ بنائے جائیں گے، مزید یونین کونسل کو بااختیار بنانے جار ہے ہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم و محنت سعید غنی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) صوبائی وزیر تعلیم و محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ سیسی میں جعلی رجسٹریشن کارڈز کے خاتمے کیلئے سندھ حکومت نادرا کی مدد سے ساڑھے 6 لاکھ ورکرز کا اسمارٹ کارڈ بنانے جارہی ہے، اس کام سے وہ الگ سامنے آجائیں گے جو واقعی میں حقدار ہیں، مئیر کراچی اختیارات چھیننے کی بات کرتے ہیں، ان سے کوئی اختیارات نہیں چھینے گئے ہیں، لوکل ٹیکس کا نظام ضلع کے حوالے کردیا گیا ہے، مزید یونین کونسل کو بااختیار بنانے جار ہے ہیں، کاٹی صنعتی علاقے میں شجرکاری مہم کیلئے صنعتکاروں کے ساتھ تعاون کرینگے، سرکار چاہے بھی تو 100 فیصد اسکول صحیح کرنا مشکل ہے، ہمارے ساتھ بہت سے لوگوں نے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت جو اسکول بنائے وہ اچھے چل رہے ہیں، اس قسم کے مزید پروجیکٹس کے لئے کام کرنے کو تیار ہیں، انڈسٹریل گراؤنڈ کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ سے بات کرونگا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں صنعتکاروں اور تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدر کاٹی شیخ عمرریحان، سی ای او کائٹ لمٹیڈ زبیر چھایا، چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے لیبر، سیسی اور ای او بی آئی زاہد سعید، سینئر نائب صدر اکرام راجپوت نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر سینیٹر عبدالحسیب خان، گلزار فیروز، دانش خان، شیخ منظرعالم، فرحان الرحمان، احتشام الدین، باسط اکرم اور دیگر بھی موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ صدر اور گورنر کراچی سے ہیں پھر بھی شہریوں کے مسائل حل نہ ہوسکے، وفاق میں کراچی کی نمائندگی ہے مگر پھر بھی کوئی کام نہیں کیا جاسکا، وفاق بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ای او بی آئی کو صحیح نہیں کرنا چاہ رہی، لیبر ویلفئیر کے 170 ارب روپے وفاق کے ہاتھ میں ہے اور یہ رقم عدالت نے ورکروں کو دینے کے لئے احکامات جاری کردیئے ہیں چاروں صوبوں نے متفقہ طور پر کہا کہ ورکر ڈیویلپمنٹ فنڈ صوبوں کو دیا جائے، سی سی آئی میٹنگ میں صوبوں نے اس بات پر اتفاق کیا مگر فیصلہ کچھ اور نکلا، بزنس کمیونٹی طے کرلے کے وفاق کو ورکر لیبر فنڈ نہیں دینگے کیونکہ ورکر ویلفئیر فنڈز لینا صوبوں کا حق ہے تاکہ ورکرز کو سہولت دے سکے، وفاق کی بدنیتی ہے کہ کہیں صوبوں کو پیسے نہ دینے پڑجائے۔ انکا کہنا تھا کہ صرف میئر ہی لوکل گورمنٹ کا حصہ نہیں بلکہ لوکل گورنمنٹ میں کے ایم سی، ڈی ایم سی اور یوسیز بھی ہیں، ہم اختیارات یوسیز کو دینے کا سوچ رے ہیں تاکہ نچلی سطح پر زیادہ سے زیادہ کام ہو، لوکل گورنمنٹ کا یہ مطلب نہیں کہ سارے اختیارات ہم نے اپنے پاس رکھ لئے، بہت سی چیزیں وفاق کے ہاتھ میں ہے جسکے لئے میئر کو وفاق سے سے بات کرنی چاہئے، لوکل گورنمنٹ اپنے حد سے زیادہ بجٹ کے منصوبے شروع کریگی تو صوبے سے اجازت لینا پڑے گی، صوبائی حکومت بڑے منصوبے کے لئے وفاق سے اجازت لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنٹونمنٹ اور ڈی ایچ اے میں ہم نے سڑکیں بھی بنائی اور فلائی اوور بھی بنائے، ملک میں بگاڑ صرف بد انتظامی کی وجہ سے ہے۔ انکا کہنا تھا کہ کاروباری طبقے کو منافع ہوگا تو حکومت ورکروں کے لیئے مراعات مانگ سکتی ہے، میئر کراچی کے پی ٹی، ریلوے، ڈی ایچ اے کی زمینیں چلانے کے لیئے وفاق سے مانگیں، جب میئر کہتے ہیں کہ وہ دو کروڑ سے زیادہ خرچ نہیں کرسکتےِ، تو میئر کی یہ حد ہے اس کے بعد سندھ حکومت کے پاس معاملہ آتا ہے، سندھ حکومت کی بھی حد ہے پیسے جاری کرنے کی ورنہ ہمیں وفاق کے پاس جانا پڑتا ہے، وفاقی وزراء اگر درست طریقے سے معاملات ہینڈل کرتے تو حالات اس نہج پر نہیں پہنچتے، وفاقی حکومت میں کراچی کی اتنی بڑی نمائندگی ہونے کے بعد کراچی پر کوئی توجہ نہیں، ہر آئے دن ایک وفاقی وزیر کو فوکل پرسن لگا دیا جاتا ہے۔ قبل ازیں کورنگی ایسوسی ایشن کے صدر عمر ریحان نے اپنے خطاب میں صنعتی شعبے کے مسائل حل کرنے میں عدم دلچسپی اور وزراء کے رویوں پرشدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزراء کے رویوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم کا اپنے وزراء پر کنٹرول نہیں ہے، حکومت اپنے اقدامات اور وفاقی وزراء کی وجہ سے خود اپنے خلاف سازشیں کررہی ہے، وفاقی وزراء کو اپنے محکموں کا ہی کچھ معلوم نہیں وہ کیا وزارت چلائیں گے، پروٹوکول کی مخالفت کرنے والے سب سے زیادہ پروٹوکول استعمال کر رہے ہیں، متعلقہ وزراء کی عدم دلچسپی کے باعث جی ڈی پی نمو بڑھنے کے بجائے گھٹتی جارہی ہے، حکومت کراچی کی صنعتوں کو اون ہی نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی برآمدات بڑھانے کیلئے ایفیلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب وقت کی اہم ضرورت ہے، متعدد مطالبوں اور خطوط بھیجنے کے باوجود کمبائنڈ ایفیلوئنٹ پلانٹ کے لئے مطلوبہ فنڈز مہیا نہیں کیے جارہے ہیں۔ زاہد سعید نے کہا کہ کاٹی شہر میں حکومت سندھ کے اشتراک سے ایک لاکھ درخت لگانے کیلیے تیار ہے، کاٹی کو فنڈ اور جگہ نہیں صرف سندھ حکومت کا ساتھ چاہیئے، سندھ حکومت درخت لگانے کیلئے کاٹی کے ساتھ معاہدہ کرے، کاٹی ازخود شجرکاری کیلئے اسپانسر لائے گا۔ انکا کہنا تھا کہ کاٹی اپنے اخراجات پر کھیلوں کے میدان اور سڑکیں بنائے گا، کورنگی کی صورتحال کو بہتر کرنے کیلیے سندھ حکومت کا تعاون درکار ہے۔ زبیر چھایا نے کہا کہ پاکستان کی معیشت ڈوب رہی ہے لیکن اس کے باوجود صنعتکار ہی یہ ملک چلارہے ہیں، اس بار زیادہ بارشیں ہوئی تو کچرے کی ڈمپنگ سے ملیر ندی کے پشتے ٹوٹنے کا خدشہ اور آبادیوں کو شدید خطرات ہیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

جسٹس منیب اختر قائم مقام چیف جسٹس پاکستان مقرر عہدے کا حلف اٹھا لیا

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منیب اختر نے قائم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے