راجن پور (رپورٹ: قاضی انعام باری) ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر و بیت المال راجن پور تہمینہ دلشاد کورائی نے کہا ہے کہ تھیلیسمیا کے مرض کے خاتمے کیلئے پنجاب حکومت نے پنجاب تھیلیسمیا پریونیشن پروگرام کا آغاز کر دیا ہے اس پروگرام کے تحت پنجاب بھر میں تھیلیسیمیا سے بچاؤ اور خاتمہ کی مکمل سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی۔ وہ سماجی تنظیم نیلاب چلڈرن اینڈ وومن ڈویلپمنٹ کونسل اور پنجاب تھیلیسیمیا پریونیشن پراجیکٹ ڈیرہ غازی خان ریجن کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہی تھیں جسکی انہوں نے صدارت کی انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں دوسروں کو آگاہی دینا ہر شہری کا فرض ہے۔ اس موقع پر ریجنل کوارڈینیٹر سید مظہر حسین شاہ، مانیٹرنگ آفیسر عرفان حاشر، ایم ایس ڈاکٹر احمد ندیم خان، چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر آفتاب احمد خان، فزیشن ڈاکٹر محمد شاھد کھوکھر، صدر نیلاب آفتاب نواز مستوئی، ڈسٹرکٹ فوکل پرسن عرض محمد اور مولانا قاضی انعام باری نے اپنے اپنے خطاب میں کہا کہ علاج سے پہلے احتیاط ضروری ہے تھیلیسمیا ایک موروثی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہو سکتی ہے اگر والدین میں سے کسی ایک میں بھی خون کے سرخ خلیوں میں موجود ہیموگلین بنانے کی ایک اب نارمل جین ہے اور وہ بچے میں منتقل ہو جاتی ہے تو وہ بچہ تھیلیسمیا کا کیرئیر ہوگا اس لیے ضروری ہے کہ شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کا ٹیسٹ کرایا جائے انہوں نے کہا کہ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر سال 6000 سے زیادہ بچے تھیلیسمیا میجر کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جسمیں ساری زندگی کیلئے مسلسل انتقال خون کی ضرورت رہتی ہے انہوں نے کہاعام لوگوں میں آگاہی اور شعور پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس موقع پر نیلاب کے مطالبہ پر ایم ایس ڈاکٹر احمد ندیم خان نے تھیلیسمیا کے فری ٹیسٹ کے کاؤنٹر کے قیام کا اعلان بھی کیا جس میں ہر ہفتے باقاعدگی سے تھیلیسمیاء کے ٹیسٹ ہونگے۔ سرائیکی شاعر جمشید احمد کمتر رسولپوری نے موضوع کی مناسبت سے اپنا شاندار سرائیکی کلام پیش کیا۔ تقریب میں ڈاکٹروں، صحافیوں، سول سوسائیٹی کے ممبران اور خواتین کی کثیر تعداد جن میں عبدالجبار خان، جام احمد علی آرائیں، ایم شہباز، ابرار حسین قریشی، عبدالرؤف بالم، انچارج ماڈل بازار طاہر گوندل، ارسلان حفیظ، سرفراز قریشی ایڈووکیٹ، سلیم قریشی، محمد جنید خان و دیگر نے شرکت کی۔ نیلاب کی جانب سے تحصیل بھر کے اہم علاقوں ہڑند، داجل، حاجی پور، محمد پور، کوٹلہ مغلان اور دیگر علاقوں میں رضاکارانہ طور پر اس طرح کے آگاہی سمینار منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا جسے بے حد سراہا گیا۔
![]()