کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء و رکن سندھ اسمبلی بلال غفار نے محکمہ اینٹی کرپشن سے کے ڈی اے (ایس بی سی اے) افسران کیخلاف تحقیقاتی کمیٹٰی بنانے کا مطالبہ کردیا رکن سندھ اسمبلی نے کہا کہ کراچی میں قبضہ مافیا کے سرگرم ہونے کی وجہ کے ڈی اے (ایس بی سی اے) کے کچھ افسران ہیں ادارے میں ٹیبل کے نیچے سے رشوت لینے کا سلسلہ معمول بن گیا ہے بعض افسران جعلی کاغذات جعلی دستخط اور مہریں لگا کر رقم و رشوت خوری میں ملوث ہیں کوئی چیک اینڈ بیلینس نہیں ہے جعلسازی کی وجوہات کی بناء پر زمینوں اور فلیٹوں پر قبضے کیے جاتے ہیں جعلی کاغزات بناکر لوگوں کو ان کے گھروں سے محروم کیا جارہا ہے اربوں روپوں کے سکینڈل کے ڈی اے کے پلاننگ ونگ افسران کے خلاف موجود ہیں مذکورہ آفیسر جہاں سے منہ مانگی رشوت نہ ملے وہاں آپریشن کر دیتے ہیں محکمہ میں کرپشن کی وجہ اس میں نااہل اور نالائق اہلکاروں کی تعیناتی ہے کے ڈی اے کو ٹینڈر ملنے کے بعد حکمت عملی تشکیل دینے میں سالوں گزرجاتے ہیں انتہائی خفیہ انداز سے مذکورہ کاموں کو مبینہ طور پر ٹھکانے لگادیا جاتا ہے اور فائلیں دبا دی جاتی ہیں جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں زیادہ تر ہاؤسنگ سوسائٹیاں غیر قانونی ہیں کے ڈی اے کے کرپٹ افسران قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں شہر میں زمینوں پر قبضے جما کر سوسائٹیاں بنائی جارہی ہیں اور ہزاروں پلاٹ اشتہارات کے ذریعے سے فروخت کر کے عوام کی جیبیں خالی کی جاتی ہیں محکمہ اینٹی کرپشن تحقیقات کا دائرہ وسیع کرے اور ادارے میں بیٹھے کرپٹ افسران کیخلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔
![]()