کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) انسداد پولیو مہم پیر سے کراچی میں دوبارہ شروع کی جارہی ہے۔ مہم پانچ ماہ قبل معطل کی گئی تھی تاکہ رہ جانے والے بچوں تک رسائی کی جامع حکمت عملی تیار کی جاسکے۔ مہم سات روزہ ہوگی۔ پیر سے شروع ہو نے والی مہم میں انسداد پولیو مہم 23 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ رہ جانے والے بچوں تک رسائی حاصل 234 کرنے اور انھیں پولیو کے قطرے پلانے کے لئے کمیونٹی کا تعاون حاصل کریں مربوط کوششیں کریں ;234; ۔ اس سلسلہ میں بنائی جانے والی عالمی ادارہ صحت کی ٹیکنکل کمیٹی کی تجاویز اور حکمت عملی سے استفادہ کریں۔ دریں اثنا کمشنر کراچی کو پیر سے شروع ہونے والی مہم کی تیاریوں کیے بارے میں تمام ڈپٹی کمشنرز نے پورٹ پیش کردی ہے جس میں بتایا گیا کہ تمام اضلاع میں انسداد پولیو مہم کے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔ اس سے قبل کمشنر کراچی نے انسداد پولیو مہم کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ جس میں فیصلہ کیا گیا کہ دس ہزار سے زائد پولیو ٹیمیں فرائض انجام دیں گی۔ جبکہ چار ہزار سے زائد پولیس اہلکار سیکورٹی فرائض کے لئے تعینات کئے جارہے ہیں کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے کہا انسداد پولیو قومی مقصد ہے سب مل کر کام کریں یقینی بنائیں کہ ہر بچہ تک رسائی ممکن ہو اور وہ پولیو کے قطروں سے مستفید ہوں انھوں نے کہا کہ والدین کو پولیو کے قطرے پلانے کی اہمیت سے آگاہ کرنا ضروری ہے انھوں نے کہا کہ والدین اور کمیونٹی کے لوگوں سے رابطہ کو مضوط بنائیں انھیں اعتماد میں لیں آگاہ کریں پولیو کے قطرے پلانا بچوں کی صحت، زندگی اور مستقبل کے لئے ضروری ہے۔ انھوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز سے کہا کہ وہ انسداد پولیو ٹرانسفارمیشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ ضلعی انسداد پولیو کنٹرول روم کا اجلاس ہر روز منعقد کریں ہر روز مہم کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور انھیں کارکردگی سے آگاہ رکھیں ہر روز کی رپورٹ پیش کریں۔ کمشنر نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے ہر پانچ سال تک کے بچے کو ہر بار پولیو کے قطرے پلانا ضروری ہے۔
![]()