چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) چترال کے ایک کرائے کے کمرے میں گیس بھرنے کی وجہ سے پولیس سب انسپکٹر اور اس کا رشتہ دار جاں بحق ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق چترال کے ایک ہوٹل سے متصل کرائے کے کمرے میں رہائش پذیر سب انسپکٹر رحمت الدین اور اس کا رشتہ دار ناصر الدین جو کریم آباد کے گاؤں ہنجیل کا رہائشی ہے وہ بھی مردہ پایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق سب انسپکٹر رحمت الدین اسی کرائے کے کمرے میں رہتا تھا اور گزشتہ رات اس کے پاس ایک خاتون رشتے دار بھی آئی تھی جسے کل عصر کے وقت رخصت کرکے گھر بھجوایا تھا مگر یہ اور ایک چھوٹا لڑکا ناصر الدین اسی کمرے میں رہ گئے۔ انہو ں نے رات کو کوئیلہ جلاکر کمرہ گرم کیا تھا اور ساتھ ہی گیس سلنڈر سے بھی ہیٹر جلاکر کمرہ گرم کرکے سوئے تھے کہ گیس بھرنے کی وجہ سے دونوں جاں بحق ہوئے۔ ہفتے کے روز جب یہ لوگ کافی دیر تک نہیں اٹھے تو ہوٹل کے مالک نے کرایہ مانگنے کیلئے دروازہ کٹکھٹایا مگر کافی دیر تک دروازہ کٹکھٹانے کے باوجود بھی جب کمرہ نہیں کھولا تو اس نے پولیس کو اطلاع دی۔ چترال پولیس نے بھی کافی دیر تک کوشش کی مگر دروازہ نہ کھلنے کی صورت میں انہوں نے دروازے کو لات مار کر زبردستی کھول دیا جہاں یہ دونوں مردہ پائے گئے۔ جبکہ کمرے میں گیس کا ہیٹر چل رہا تھا اور اس پر رکھا ہوا پانی بھی خشک تھا۔ پولیس نے دونوں لاشیں تحویل میں لے کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال روانہ کردیں جہاں پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد ان کو ورثاء کے حوالہ کیا۔ سب انسپکٹر رحمت الدین کا نماز جنازہ پولیس لائن میں پڑھایا گیا جس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وسیم ریاض نے بھی شرکت کی۔ بعدازاں دونوں لاشیں آبائی گاؤں روانہ کی گئیں۔ واضح رہے کہ چترال میں ان دنوں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور لوگ خود کو سردی سے بچانے کیلئے بجلی کے ہیٹر جلانے کی بجائے کوئلہ یا گیس سلنڈر سے ہیٹر جلاتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر اس قسم کے حادثات پیش آتے ہیں۔
![]()