ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ہائی کورٹ کے معروف وکیل پیر صدام حسین زکوڑی ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ قدرت کا تحفظ اور ماحول کو صاف ستھرا رکھنا دنیا و زمین کی بقا کے لئے نہایت ضروری ہے، دنیا میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور اس دنیا و زمین کی بقا کے لئے ہمارے پیارے مذہب اسلام نے قدرت کے تحفظ اور ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے انتہائی تاکید کی ہے۔ چونکہ دین اسلام دین فطرت ہے اسی لئے اسلام میں نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں اور پودوں کے حقوق کا بھی تحفظ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جابجا قرآن میں ایسی آیات آئی ہیں جن میں ان قدرتی نظاروں کی طرف انسان کی توجہ دلا کر اپنے رب تک پہنچنے کا کہا گیا ہے۔ اور جنگ میں بھی درختوں اور جانوروں کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا گیا ہے۔ قرآن پاک میں جا بجا ایسی آیات ملتی ہیں جن میں ماحولیات کے تحفظ کی تلقین کی گئی ہے اور قدرتی وسائل کو ضائع نہ کرنے کی بھی تلقین کی گئی ہے، نہ صرف قرآن میں اللہ تبارک و تعالی نے اس بارے میں آیات نازل فرمائی ہیں بلکہ نبی پاک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ سے بھی ایسے واقعات کا پتہ چلتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دین اسلام چونکہ دین فطرت ہے یہی وجہ ہے کہ اس معاملے میں بھی قرآن و سنت میں تفصیلی آیات و واقعات ملتے ہیں۔ انھوں نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر دریا کے کنارے بھی ہو تب بھی وضو کرتے وقت پانی ضائع نہ کرو۔ اسی طرح جانوروں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے انھوں نے سیرت کے اس واقعہ کا ذکر کیا جس میں ایک اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے مالک کی زیادتی کی شکایت کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے انصاف دلاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں آگاہی دینے کے لئے ہم مساجد کے منبر بھی استعمال کر سکتے ہیں کہ مساجد میں جمعہ کے خطبہ میں ان آیات و واقعات کو دلیل بنا کر اس بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کیا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پورا پنجاب اور ملک کے بیشتر حصے شدید سموگ اوردھند کی لپیٹ میں ہیں، ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ انتہائی خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے جس میں پلاسٹک کا استعمال سرفہرست ہے جو ہمارے ماحول کو حد درجہ خراب کر رہا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے میں جہاں پلاسٹک کے استعمال کو روکنا ضروری ہے وہیں درختوں کی کٹائی، کھانے کا ضیاع بھی روکنا ہوگا۔ اور ساتھ ہی ساتھ دنیا بھر میں جنگی جنون کے طور پر استعمال کیا جانے والا اسلحہ بھی اس ضمن میں آتا ہے۔ اللہ نے اس دنیا کی ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے اور یوں قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال آنے والی نسلوں کو تباہ کر سکتا ہے۔ اس مسئلہ پر قابو پانے کے لئے شروعات ہمیں اپنے آپ سے اور اپنے گھر سے کرنی ہوں گیں۔ پھر گھروں سے نکل کر گلی محلوں میں۔ اس کے علاوہ بچوں کی شروع ہی سے ایسی تربیت کرنا کہ وہ کھانا ضائع نہ کریں اور ان کو یہ باور کرانا کہ یوں کھانا ضائع کرنا حقیقتا کتنا بڑا نقصان ہے۔
![]()