میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) جماعت اسلامی سندھ کے امیر و سابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی نے سانحہ تیز گام کو ایک قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر ریلوے استعفی، شہداء کے لواحقین کے ساتھ مالی تعاون اور واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرکے اصل حقائق سے قوم کو آگاہ کیا جائے۔ 80 کے قریب افراد کا تیزگام سانحہ میں لقمہ اجل اور 100 سے زائد افراد کا زخمی ہونا قومی سانحہ ہے جس پر پوری قوم کو صدمہ اور ان کے دل دکھی ہیں۔ حکومتی دعووں اور عوامی امیدوں کے برعکس مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بناکر رکھ دی ہے۔ موسم سرما آنے کے باوجود سندھ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بلدیاتی اداروں کی ابتر صورتحال حکومتی کی ناکامی اور اہلیان سندھ کے ساتھ بڑی ناانصافی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میرپورخاص پریس کلب پر پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ قبل ازیں صوبائی امیر نے جماعت اسلامی کے مقامی ذمہ داران کے ہمراہ تبلیغی مرکز، بسم اللہ مسجد اور سانحہ تیز گام کے دیگر شہداء کے گھروں پر جاکر ان کے لواحقین سے تعزیت، شہداء کو شہادت کے اعلی درجات اور لواحقین کو صبر جمیل کی دعا کی۔ ضلعی امیر افضال آرآئیں، مقامی امیر حاجی نور الہی، لالہ نور محمد اور صوبائی سیکریٹری اطلاعات مجاہد چنا سمیت جماعت اسلامی و جمعیت کے کارکنان بھی ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی تحقیقات سے قبل ہی تیزگام ٹرین حادثہ کا سبب سلینڈر پھٹنے کو قرار دینے والا حکومتی موقف مضحقہ خیز ہے۔ وزارت ریلوے کا اپنی نااہلی چھپانے کے لیے تبلیغی جماعت کے ساتھیوں پر ایف آئی آر درج کرنا ظلم اور قانون و انصاف کے تقاضوں کے برعکس ہے۔ متاثرین کو انصاف دینے کے بجائے ایف آئی آر شہداء کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے مقامی امیر حاجی نور الہی مغل کی زیرصدارت مغل ہاؤس پر منعقدہ تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اللہ کی جماعت ہے جو اپنے قیام کے روز اول سے ہی اصلاح معاشرہ و اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ کارکنان کوششوں کو تیز کریں اور جماعت اسلامی کو سندھ میں غالب قوت بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ بزرگوں کا اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
![]()