کراچی (پریس ریلیز) صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر شاہ نے نرسری اسٹاپ پر پاک دہلی سوئٹس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت، رینجرزاور سندھ پولیس کی مشترکہ کوششوں سے کراچی میں امن قائم ہوا ہے ، جس کے باعث شہر کراچی میں کاروباری، تفریحی، کھیلوں سمیت دیگر سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ صوبائی وزیر نے پاک دہلی سوئٹس کے مالکان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سبطین حسین کے والد نے آج سے 50 برس قبل اس وقت یہاں کاروبار کا آغاز کیا تھا جب علاقہ ڈرگ روڈ کہلاتا تھا اور یہ ایک ہی دکان تھی، علاقے میں ان کی کوششوں کی بدولت آج یہ کراچی کا بڑا کاروباری علاقہ ہے، انہوں نے امید کی کہ دیگر کاروباری شخصیات بھی سبطین حسین کی طرح کراچی کی کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کریں گے۔ انہوں نے میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پیپلزپارٹی کا لیاقت آباد کا جلسہ کامیاب ہوا یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں بجلی کو طویل لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا دو بھر کردیا ہے، وزیر اعظم نے جو بات کی ہے وہ پوری ہونی چاہئے، سندھ حکومت بھی احتجاج کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف پانامہ لیکس کے بعد بوکھلاگئے ہیں، انہوں نے اپنے دورے اقتدار میں اداروں کو اپنے لئے استعمال کیا اور کورٹوں پر حملے کئے۔ اس موقع پرپاک دہلی سوئٹس کے مالک سبطین حسین نے کہا کہ ہم کراچی والوں کو صاف، غیر مضر سوئٹس پیش کر رہے ہیں، امید ہے کراچی والے ہماری پراڈکٹ کی تعریف کریں ۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کلفٹن و دیگر علاقوں میں بھی سوٹیس آؤٹ لیٹس کھولے جائیں گے۔ اس موقع پر حمید بھٹو نے کہا کہ سبطین حسین کے والد کی جانب سے 1968ء کے دوران پہلا دہلی سوئٹس کا آؤٹ لیٹ کھولا ہے، جہاں کراچی والوں کو صاف اور معیاری اشیاء پر مبنی روایتی سوئٹس ملے گی۔انہوں نے کہا کہ سبطین حسین کی طرح کراچی کی تاجر برادری کراچی میں کاروبار ی سرگرمیوں کو فروغ دیں گے۔اس موقع پر دہلی سوٹس کی ترقی کیلئے دعابھی مانگی گئی ۔ اس موقع پر شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، جنہیں ریفریشمنٹ سمیت سوئٹس کے تحفے بھی پیش کئے گئے۔اس موقع پر محمد حسین دہلوی،تاجر اتحاد کے عتیق میر، انجمن دہلی راعیاں پاکستان کے نائب سرپرست اعلیٰ عابد میاں دہلوی، انجمن دہلی راعیاں پاکستان کے صدرفضل کریم آرائیں، جنرل سیکریٹری میاں افضال آرائیں، حیدر آباد یوتھ کے فہد میاں آرائیں، سبطین حسین، حسنین ، ذیشان ، ملک جاوید اسلم، ملک معیز آرائیں، سلمان حسن اور ابرار احمد سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
![]()
![]()