کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) یکم مئی سرمائے کی بربریت کے خلاف علم بغاوت ہے اور اس وقت تک بلند رہے گا جب تک کرہ ارض سے سرمایہ داری اور اس کی نحوستوں کا خاتمہ نہیں کر دیا جاتا۔ سرمایہ دارانہ نظام اپنی سرشت میں انسان دشمن نظام ہے جس نے ایک طرف تو بھوک، بیماری ،بے روزگاری اور استحصال کی سفاک شکلوں کو جنم دیا تو دوسری جانب اس نے سماجی ،سیاسی ،معاشی انتشار اور وسیع پیمانے پر ہلاکت خیز جنگوں کو جنم دیا ہے ۔سرمایہ داری کی چھ سو سالہ تاریخ منافع کے لیے بنیادی انسانی اقدار وحقوق کی پامالی اور قدرتی ماحول کو خطرناک حد تک برباد کر نے کی تاریخ سے عبارت ہے۔اس کی ہلاکت انگیزیوں نے پہلی بار نوعِ انسانی کو اپنی بقا کے سنگین مسئلے سے دوچار کر دیاہے ۔بنی نوع انسان کی ترقی کا راز سرمایہ داری کے خاتمے میں مضمر ہے اور مزدور طبقے کو سرمایہ داری کا گورکن ثابت ہونے کے لیے خود کو سیاسی طور پر منظم کرنا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار آج کراچی میں’’ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن‘‘(NTUF)کے زیر اہتمام ریگل چوک صدر تا کراچی پریس کلب تک نکالی جانے والی یکم مئی کی مرکزی مزدور ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مزدور رہنماؤں نے کیا جس کی قیادت فیڈریشن کے مرکزی صدر رفیق بلوچ کر رہے تھے ۔مزدور ریلی میں کثیر تعداد میں مختلف صنعتوں سے وابستہ محنت کشوں نے شرکت کی ۔شرکاء نے مطالبات پر مبنی بینرز اور کتنے اٹھا رکھے تھے اور مسلسل نعرے لگا رہے تھے۔ کراچی کے علاوہ گڈانی ، حب ( بلوچستان) ، حیدر آباد ، سانگھڑ ، دادو، ٹھٹھہ ، ٹنڈو محمد خان سمیت مختلف شہروں میں ریلیوں اور مظاہروں کا اہتمام کیا گیا ۔
اس موقع پر مزدور ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مزدور رہنماؤں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام جس نے انسانوں کی عظیم اکثریت کو ان کے بنیادی حقوق سے یکسر محروم کر رکھا ہے خود پاکستان میں دنیا بھر کی طرح سرمایہ داری نے انسانی زندگیوں خصوصی طور پر محنت کشن طبقے کو ایک جہنم میں دھکیل رکھا ہے ۔ صورتحال یہ ہے کہ ملک کی ساڈھے چھ ملین ورک فورس
اپنے بنیادی آئینی اور قانونی حقوق سے محروم ہیں اوریونین سازی اور اجتماعی سودا کاری کو شجرِ ممنوعہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے ۔ملک کے %90 سے زائد صنعتی ادارے کم ازکم تنخواہ(مینی مم ویج)اور آٹھ گھنٹے اوقات کار پر عمل درآمد سے مسلسل انکار کی روش اپنائے ہوئے ہیں ۔ %95 سے زائد محنت کش ، تقرر نامے( اپائمنٹ لیٹر) نہ ملنے کے باعث سوشل سیکورٹی اور پنشن کے اداروں سے رجسٹریشن سمیت تمام حقوق سے محروم ہیں ۔بیشتر صنعتی اداروں اور کام کی جگہوں میں ہیلتھ وسیفٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیںیا حد درجہ ناقص ہیں،لیبر انسپیکشن اور لیبر قوانین معطل ہیں جس کے باعث فیکٹریاں اورکارخانے ،کام کی جگہوں کی بجائے مزدوروں کے لیے قتل گاہیں اورعقوبت خانے بنے ہوئے ہیں ۔سانحہ بلدیہ کراچی اورسانحہ شپ بریکنگ گڈانی فیکٹریوں ،کارخانوں اور کام کی جگہوں پر ہیلتھ اور سیفٹی کی دگرگوں صورتحال کی اس کی بدترین مثالیں ہیں۔ جس کی بنیادی ذمہ داری مالکان کے ساتھ ساتھ بے حس حکومتوں اور لیبر سے متعلقہ راشی اداروں پر عائد ہوتی ہے ۔ یہ وہ روش ہے جس کے باعث نے صنعتکاروں کومزدوروں سے غلاموں جیسا برتاؤ کرنے کی کھلی آزادی ملی ہوئی ہے۔زرعی محنت کش اکیسویں صدی میں غلاموں سے بدتر ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہیں ۔
انھوں نے مزید کہا کہ لیبر قوانین اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق ٹھیکہ داری نظام غیر قانونی ہے لیکن فیکٹری مالکان مسلسل لیبر قوانین اور توہینِ عدالے کے مرتکب ہوتے ہوئے غیر انسانی ٹھیکہ داری نظام وسیع پیمانے پر مسلط کیے ہوئے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی لیبر قوانین مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ محنت کش عوام سے رہی سہی سہولیات چھیننے کے لیے سرکاری اداروں کو نجکاری کی بھینٹ چڑھانے کی کوششیں زوروں پر ہیں۔سروسز کے تمام اداروں ٹرانسپورٹ ،بجلی، گیس پانی،تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبے بتدریج تاجروں کے حوالے کرنے کا عمل وسازشیں جاری ہیں ۔
مزدور رہنماؤں نے کہا کہ منظم شعبے کی طرح غیر منظم شعبوں خصوصاََ زراعت اور گھر سے پیداواری عمل میں حصہ لینے والے کروڑوں گھر مزدور بنا کسی قانونی تحفظ اور لیبر قوانین کے اطلاق کے
بدترین حالات میں کام کر نے پر مجبور ہیں ۔ زرعی محنت کشوں،فشریز ورکرزاور گھر مزدوروں سے لے کر تعمیراتی مزدوروں تک کے نہ تو اوقاتِ کار مقرر ہیں اور نہ ہی ان کی اجرتیں طے ہیں۔زرعی اور فشریز ورکرز کو ’’سندھ انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ 2013‘‘ کے تحت لیبر قوانین کے دائرے میں آئے چار سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن تاحال اس کے عملی اطلاق کے لیے ’’رولز‘‘ نہیں بنائے گئے ۔اسی طرح گھر مزدوروں کے قانون کا مسودہ مکمل ہونے کے بعد سندھ اسمبلی سے پاس ہونے کا منتظر ہے۔ پاکستان اب تک عالمی ادارہ محنت (ILO)کے38سے زائد کنونشن کی توثیق کر چکا ہے جن میں آٹھ بنیادی لیبر حقوق کے کنونشن بھی شامل ہیں لیکن ان کی پاسداری عملاََ ناممکن بنا دی گئی ہے ۔ ملکی صنعتکارGSP+کے تحت یورپی منڈیوں تک بغیر محصولات کے رسائی کے ذریعے سالانہ اربوں ڈالرز کما رہے ہیں لیکن اس میں وعدہ کیے گئے مزدور حقوق کو جوتے کی نوک پر رکھے ہوئے ۔
انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مروجہ سیاسی جماعتیں مختلف حکومتوں میں گزشتہ ایک دہائی سے شامل رہی ہیں اور ان میں سے کسی کے منشور میں مزودر مسائل پر کوئی ٹھوس پروگرام سرے سے ہی ناپید ہے ۔حکمران طبقہ سرمایہ داروں،جاگیرداروں کے مفادات کی ترجمانی کرتے ہیں اس لیے وقت کا تقاضہ ہے کہ محنت کش طبقہ ملک میں پھیلی نسلی ،مذہبی اور حکمرانوں کی پھیلائی
ہوئی تمام عصیبتوں کے خلاف طبقاتی بنیادوں پر منظم ہو ں اور متابدل سیاسی قوت میں ڈھل کر مزودر کسان راج کی طرف پیشرفت کریں ۔ تمام مزدوروں کو تحریری تقرر نامے(اپائمنٹ لیٹر) جاری کرنے کو یقینی بنایا جائے ۔ * کام کی جگہوں پر ہیلتھ اور سیفٹی اور لیبر قوانین کا اطلاق یقینی بنایا جائے۔ * فیکٹریوں اور کارخانوں میں لیبر انسپیکشن کا سلسلہ بحال کیاجائے۔ * سوشل سیکورٹی،EOBI اور دیگرسماجی تحفظ کے اداروں کویونیورسلائز کیا جائے اور تمام ورکرز بشمول غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کو اس تک رسائی دی جائے۔ * کم از کم پنشن کم ازکم تنخواہ ’’مینی مم ویج‘‘ کے برابر کی جائے اورآٹھ گھنٹے اوقاتِ کار کو یقینی بنایا جائے۔ * اسٹیل ملز اورPIAسمیت پبلک سیکٹر کے اداروں کی نجکاری کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ * تمام اداروں بشمول کراچی شپ یارڈ میں یونین سازی کا حق بحال کیا جائے۔ * ٹھیکہ داری نظام کی تمام شکلوں بشمول تھرڈ پارٹی سسٹم کو ختم کیا جائے۔ * گورنمنٹ ،پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر کے تمام عارضی، کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے ۔ * GSP+کے تحت وعدہ کیے گئے لیبر اور انسانی حقوق کو یقینی بنایا جائے ۔ * ٹیکسٹائل گارمنٹس اور دیگر صنعتوں مقامی لیبر قوانین اور عالمی معیارات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ * SIRA2013پر عمل درآمد کے لیے رولز بنائے جائیں اور ہاریوں کے تنظیم سازی اور اجتماعی سودا کاری کا حق یقینی بنایا جائے۔ * لیبر کورٹس کے طرز پر ہر ضلع میں ہاری عدالتیں قائم کی جائیں اورلیبر قوانین کے اطلاق کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ *ملک بھر میں زرعی اصلاحات کی جائیں اور زمینیں بے زمین کسانوں میں تقسیم کیا جائیں۔ * ا وکاڑہ کے مزارعین کا زمین پر حقِ ملکیت تسلیم کیا جائے۔ * عورتوں کے خلاف تمام امتیازی قوانین اور کام کی جگہوں پر ہراسگی کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے اورزرعی زمین کی ملکیت پرعورتوں کا حق تسلیم کیا جائے۔ * لاڑکانہ کی معصوم بچی صائمہ جروار کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے سانحے کا فی الفور نوٹس لیتے ہوئے مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے ۔ * ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ فی الفور اسمبلی سے منظور کیا جائے اور حکومت عالمی ادارہ محنت کے کنونشن 177 کی توثیق کرے ۔ کانکنی کی صنعت کے محنت کشوں کی زندگیوں کا تحفظ اور ری رولنگ ملز ورکرز پر لیبر قوانین کا اطلاق یقینی بنایا جائے ۔ * صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے آٹھویں ویج بورڈ کی تشکیل، کنٹریکٹ ملازمت کا خاتمہ اور الیکٹرانک میڈیا کے لیے قانون سازی کی جائے۔ * شپ بریکنگ سے متعلق ILO کی گائیڈ لائن کی روشنی میں قانون سازی کرتے ہوئے شپ بریکنگ کا خصوصی قانون پاس اور ہانگ کانگ کنونشن کی توثیق کی جائے۔ * ہم غیر ملکی منصوبوں بشمول سی پیک میں ورکرز کی دگرگوں صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان سارے منصوبوں کو پبلک کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ * جبری طور پر غائب کیے گئے تمام افراد بشمول سیاسی، سماجی وادبی کارکنان کو بازیاب کیا جائے اور اس سلسلے میں قانونی وآئینی طریقہ کار اختیار کیا جائے ۔ * ہم ہزارہ کمیونٹی کا نسلی وفرقہ وارانہ بنیادوں پر جاری منظم قتل عام کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ * برازیل کے سابق صدر اور مزدور رہنما لولا ڈی سلوا کے خلاف جھوٹے مقدمات ختم کر کے فی الفور رہا کیا جائے ۔ * محنت کشوں کی بستیوں میں پانی، بجلی ، گیس، سیوریج ، روڈ راستوں اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ ریلی سے خطاب کرنے والوں میں ’’نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن‘‘(NTUF)کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری ناصر منصور ، مرکزی صدر رفیق بلوچ،مرکزی جنرل سیکریٹری غنی زمان اعوان، ’’ ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن ‘‘(HBWWF)کی مرکزی جنرل سیکریٹری زہرا خان ، NTUFسندھ کے صدر گل رحمان، جنرل سیکریٹری ریاض عباسی ، بزرگ مزدور رہنما عثمان بلوچ ، NTUFبلوچستان کے صدر بشیر احمد محمودانی ،’’سانحہ بلدیہ متاثرین ایسوسی ایشن ‘‘ کی چیئر پرسن سعیدہ خاتون، جنرل سیکریٹری عبدالعزیزخان ،NTUFکے رہنما مشتاق علی شان ، عبدالرحمن آفریدی ، اسرار احمد ، شاہ جی رحمن ، محمد صدیق HBWWFکی رہنما سائرہ فیروز ،شبنم اعظم اور دیگر شامل تھے
![]()