Home / اہم خبریں / بلدیہ عظمیٰ کراچی نارتھ ناظم آباد میں واقع کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج چلانے میں ناکام ہوگئی ہے، 1600سے زائد بچوں کا مستقبل داﺅ پر لگ گیا

بلدیہ عظمیٰ کراچی نارتھ ناظم آباد میں واقع کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج چلانے میں ناکام ہوگئی ہے، 1600سے زائد بچوں کا مستقبل داﺅ پر لگ گیا

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) بلدیہ عظمیٰ کراچی نارتھ ناظم آباد میں واقع کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج چلانے میں ناکام ہوگئی ہے، 1600سے زائد بچوں کا مستقبل داﺅ پر لگ گیا ، دسمبر میں امتحانات ہیں اور گذشتہ 4 ماہ سے تدریسی عمل متاثر ہیں، ملازمین نے پرنسپل آفس سمیت تمام ڈپارٹمنٹس کو تالے لگاکر بند کیا ہوا ہے۔ کے ایم سی حکام اور کالج انتظامیہ کی اقربا پروری اور فرائض سے عدم دلچسپی نے کالج کو انتظامی اور مالی بحران میں مبتلا کردیا۔ چار ماہ کی تنخواہوں سے محروم 250 سے زائد تدریسی ملازمین کا ایک ماہ سے احتجاج جاری ہے۔ ملازمین نے پرنسپل آفس سمیت تمام ڈپارٹمنٹس کو تالے لگاکر بند کردیا۔ جبکہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی تک کام نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ہڑتال کی وجہ سے انتظامیہ نے ہاﺅس آفیسرز کے انٹرویو غیر معینہ مدت کیلئے منسوخ کردیئے گئے کے ایم سی ملازمین دشمن اقدامات سے پریشان ملازمین نے حکومت سندھ سے کالج کے انتظامات سنبھالنے کا مطالبہ کردیا۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں چار ماہ کی تنخواہوں سے محروم ملازمین کا احتجاج کو ایک ماہ گزر جانے کے باوجود کے ایم سی حکام نے ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں کی۔ جس پر ملازمین نے کے ایم سی حکام اور کالج انتظامیہ کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کالج میں نعرے بازی کی اور پرنسپل آفس سمیت کالج کے تمام ڈپارٹمنٹس کو تالا لگا کر بند کیا ہواہے۔ملازمین کا کہنا ہے کہ کے ایم سی حکام اور کالج انتظامیہ ذاتی مفادات کیلئے ناصرف ملازمین کو پریشان کررہی ہے ۔ بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل سے بھی کھیل رہی ہے۔ میئر کراچی فنڈ نہ ہونے کا رونا روکر 3 سال سے شہریوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ ملازمین نے واضح طور پر کہا ہے کہ جب تک تنخواہیں ادا نہیں کی جاتیں کالج بند رکھیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 10 برس میں کالج کے اخراجات میں کروڑوں روپے کی خرد برد کی جارہی ہے۔ انتظامیہ نے کالج کا ویلفیئر فنڈ تک نہ چھوڑا اور انتظامی بدعنوانی کی وجہ سے شہر کا بہترین کالج تباہ ہوکر رہ گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کالج کو 10 سال کے دوران دیئے گئے فنڈ اور فیسوں کی مد میں جمع ہونے والی رقم کا شفاف آڈٹ کرائے جائے تاکہ بدعنوانیوں کے سنگین انکشافات سامنے آجائیں گے‘ دوسری جانب تنخواہوں سے محروم تدریسی اور غیر تدریسی طلباء نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کے ایم سی سے لے کر سندھ حکومت کے ماتحت کیا جائے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ کے ایم سی حکام کالج چلانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ حکام اور کالج انتظامیہ کچھ دو اور لو کی بنیاد پر کالج چلا رہی ہے ‘ کالج تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ روز ہڑتالی ملازمین اور طلباء کی جانب سے میئر کراچی‘ متحدہ قومی موومنٹ ‘ میونسپل کمشنر اور کالج انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ اس ضمن میں کالج کی ایکشن کمیٹی کے رہنماﺅں ڈاکٹر آفتاب امتیاز اور ڈاکٹر فریدہ و دیگر نے بتایا کہ ١٥ ستمبر کو وزیر اعلیٰ کی مداخلت اور یقین دہانی کے بعد تدریسی عمل شروع کردیا گیا تھا اور ہمیں بتایا گیا تھا کہ 10 کروڑ روپے کی گرانٹ 15دن میں مل جائیگی تاہم 15 ستمبر کے بعد سے اب تک اس یقین دہانی پر بھی عمل نہیں کیا جارہا ہے، کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے اسٹاف کی تنخواہوں کی مد میں ساڑھے 4 کروڑ روپے کا بجٹ صرف ہوتا ہے تاہم گذشتہ 8 سال سے 3 کروڑ روپے جاری کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے صورتحال خراب ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں 1600سے زائد طالب علم ہیں جن میں سے 300 طالب علم سیلف فنانس کے تحت ہیں جن کی ٹیوشن فیس چند ماہ قبل ہی 4 لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ روپے کردی گئی تھی۔ 

About admin

یہ بھی پڑھیں

عائشہ ظفر کی تاریخی سنچری، پاکستان ویمنز نے زمبابوے کو ریکارڈ مارجن سے شکست دے دی

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) پاکستان ویمنز ٹیم نے زمبابوے کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے