پترا جایا / ملائیشیا (بیورو رپورٹ) ملائشین وزیر اعظم تون مہاتیرمحمد نے کہا کہ ملائشیا کو ایرانی افراد اور ایرانی کمپنیوں کے بینک کھاتوں کو بند کرنے کے لئے بعض حلقوں کی طرف سے سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے اس میں شامل فریقوں کا نام لئے بغیر کہا کہ درحقیقت ملائیشیا کو بھی دھمکی دی گئی تھی کہ اگر آپ نے کاروائی نہ کی تو بیرون ملک اس کے بینکوں کو بند کردیا جائے گا، ملائشین وزیر اعظم نے کہا کہ "ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہیں، لیکن ہمیں کچھ حلقوں کی طرف سے بہت سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کا آپ اندازہ لگا سکتے ہو۔ "ہم یہ کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ اگر ہم ایسا نہیں کرتے ہیں تو وہ ہمارے بینک بیرون ملک بند کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا میں بینک ایرانی افراد اور کمپنیوں کے اکاؤنٹ بند کر رہے ہیں۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ملائیشیا میں ایرانیوں کے بینک اکاؤنٹ بند ہونے کے بعد وہ کس طرح گھوم پھر رہے ہیں تو، وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد ان کے لئے مشکل پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم مدد نہیں کر رہے ہیں (بینک اکاؤنٹس کو بند کرنے میں) ہم اسے کرنے پر مجبور ہیں۔
![]()