میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) انسداد تجاوزات ٹریبونل نے شہری کی درخواست پر پلاٹ کی پیمائش کا حکم جاری کردیا۔ متعلقہ محکموں کو حکم نامہ ارسال کردیا گیا۔ حمید پورہ کالونی کا رہائشی طویل عرصہ سے کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری زمین پر قابض ہے۔ غیر قانونی طور پر دکان تعمیر کرکے قانون شکنی کا مرتکب ہوا ہے۔ تجاوزات منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں، درخواست گذار محمد عثمان کا موقف۔ تفصیلات کے مطابق انسداد تجاوزات ٹریبونل میرپورخاص کے جج ذوالفقار علی سولنگی کی عدالت نے شہری محمد عثمان کی درخواست پر اسسٹنٹ کمشنر تعلقہ حسین بخش مری کو ہدایت کی ہے کہ جوابدار محمد علی اور اس کے بھائیوں کے حمید پورہ کالونی میں واقع پلاٹ کی پیمائش کرکے واضح کیا جائے کہ کالونی چوک پر قائم ان کی دکان پلاٹ کی حدود میں ہے یا نہیں، اور اس حوالے سے مکمل رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کی جائے۔ واضح رہے کہ سیاسی پشت پناہی میں سرکاری زمینوں پر قبضے میرپورخاص میں روز کا معمول بن چکے ہیں۔ اس حوالے سے درخواست گذار محمد عثمان نے صحافیوں کو بتایا کہ جوابدار محمد علی کے بھائیوں کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے اور انہیں سندھ کی حکمراں جماعت کی چند بااثر شخصیات کی آشیر باد حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جوابدار نے حمید پورہ کالونی چوک پر قائم بلدیہ ناکہ اور اس سے متصل کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی سرکاری زمین پر قبضہ کرکے شاہ ڈیکوریشن کے نام سے دکان قائم کرلی ہے جبکہ سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے چیف میونسپل آفیسر کے دفتر سے ایک لیٹر جاری کروانے میں کامیاب ہوچکا ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ ان کی دکان تجاوزات میں شامل نہیں اور جوابدار دکان کے سامنے قائم تجاوزات کا کرایہ دینے پر راضی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی ایم او میرپورخاص کی جانب سے گمراہ کن معلومات فراہم کی گئی ہیں جو کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی سرکاری زمین پر طویل عرصے سے ناجائز قبضے کو جائز قرار دینے کی مذموم کوشش ہے جس کے خلاف آئندہ چند روز میں سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کی تیاری کرلی ہے اور وکلا کی ٹیم سے مشاورت مکمل ہوچکی ہے۔ محمد عثمان نے کہا کہ جوابدار محمد علی کے سگے بھائی زاہد علی اور محمد ارشد متعدد مرتبہ جدید خود کار ہتھیاروں سے مسلح ہوکر میرے گھر پر آئے اور مجھے اور میرے بچوں کو اغواء کرکے قتل کرنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ ہماری پی پی پی کی حکومت ہے۔ تمہارے لئے بہتر ہے کیس سے دستبردار ہوجاؤ۔ انہوں نے صدر پاکستان، وزیر اعظم، چیف جسٹس سپریم کورٹ، چیف آف آرمی اسٹاف، گورنر سندھ، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ با اثر قبضہ مافیا، ان کے سرپرستوں اور سرکاری محکموں میں تعینات قبضہ مافیا کے سہولت کاروں کے خلاف سخت ترین قانونی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے فوری طورپر قیمتی سرکاری زمین واگذار کرائی جائے۔ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مسلح دہشت گردوں سے فی الفور تحفظ فراہم کیا جائے۔
![]()