تازہ ترین
Home / اہم خبریں / جو لوگ سفارتی استثناء کی بات کرتے ہیں وہ جواب دیں کیا قاتل کو استثناء حاصل ہوتا ہے؟ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی- ملک کی عزت اور وقار کیلئے قانون کو سب زیادہ مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے۔ الطاف شکور

جو لوگ سفارتی استثناء کی بات کرتے ہیں وہ جواب دیں کیا قاتل کو استثناء حاصل ہوتا ہے؟ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی- ملک کی عزت اور وقار کیلئے قانون کو سب زیادہ مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے۔ الطاف شکور

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ڈاکٹر عافیہ کی ہمشیرہ اور عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک اور ریمنڈڈیوس کی تاریخ دہرانے کی تیاری جاری ہے۔ یہ ایک پاکستانی شہری کے خون ناحق کا نہیں قومی قیادت کے ضمیر کا مقدمہ ہے۔ کیا امریکی قاتل کرنل جوزف، ریمنڈ ڈیوس کی طرح معصوم عافیہ کی رہائی کے بغیر ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟ میں یہ سوال ہماری سیاسی، دینی، عسکری، صحافتی، سماجی ،عدالتی اور پوری سول سوسائٹی کے سامنے رکھتی ہوں، کوئی تو مجھے جواب دے۔ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کیلئے جاری جدوجہد کے سلسلے میں عافیہ موومنٹ کے تحت کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مختلف سیاسی، دینی و سماجی رہنماؤں کو مدعو کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ پاکستانیوں کو قتل کرنے پر امریکی آزاد ہوجاتے ہیں اور قوم کی معصوم بیٹی امریکی جیل میں سڑتی رہتی ہے۔ اگر کسی پاکستانی سفارتکار نے کسی امریکی کو اس طرح کچل کر ہلاک کردیا ہوتا تو کیاامریکی قوم سراپا احتجاج نہ ہوتی؟جو لوگ سفارتی استثناء کی بات کرتے ہیں تو وہ جواب دیں کیا قاتل کو استثناء حاصل ہوتا ہے؟ کوئی پاکستانی سفارتکار امریکہ میں ٹریفک سگنل توڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ہے ۔عافیہ کو بھی مکمل استثناء حاصل تھا، وہ صرف اور صرف پاکستانی شہری ہے ۔افغانستان سے امریکہ منتقل کرکے عافیہ پر مقدمہ چل ہی نہیں سکتا تھا۔ انہوں نے کہا آج پھر پاکستانیوں کی عزت اور جان کے تحفظ کا سوال ہے۔ عوام عافیہ کی وطن واپسی چاہتے ہیں۔ کرنل جوزف کو محفوظ راستہ فراہم کرکے امریکیوں کو پاکستانیوں کو قتل کرنے کا لائسنس (Licence to Kill) نہ دیا جائے۔ ڈاکٹر فوزیہ نے مزید کہا کہ اگر کرنل جوزف کو واپس کرنا مجبوری ہے تو سودا کرنے والے سودا تو باعزت کریں۔ قوم کی بیٹی معصوم عافیہ15 سال سے امریکی جیل میں ہے۔ ریمنڈ ڈیوس نے The Contrctor کتاب لکھ کر اس وقت کی قومی قیادت اور پاکستانی عوام کی توہین کی ہے۔ اب یہ تاریخ نہیں دہرانی چاہئے۔ پاسبان پاکستان کے صدر الطاف شکور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں سگنل توڑ کر عتیق بیگ کو شہید اور ساتھی نوجوان راحیل کوزخمی کرنے کے امریکی ملزم کرنل جوزف کو بلا تاخیر گرفتار کرکے قرار واقعی سزادی جائے۔ سیاستدان بھی اقتدار کی دوڑ کے بجائے ملکی مفادات کے تحفظ کو ہرشے پر فوقیت دیں۔قومی قیادت اس موقع پر عافیہ کی وطن واپسی کے لئے متحد ہوجائے اور اس کے بدلے 15 برسوں سے امریکی قید میں موجود قوم کی معصوم و بے گناہ بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو وطن واپس لایا جائے۔ حکومت عافیہ کی رہائی کاایک اور موقع حاصل ہونے پر مربوط اور موٗثر حکمت عملی وضع کرے ۔ ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کے لئے پوری قوم حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ ملک کی عزت اور وقار کیلئے قانون کو سب زیادہ مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکی سفارتکار کو اسلام آباد میں سگنل توڑنے کی جراٗت کیسے ہوئی ۔ امریکی سفارتکار اپنے ملک میں قانون کی پاسداری کرتے ہیں اور ہمارے ملک میں قانون کو کمزور سمجھتے ہیں۔ اب سفارتی استثنیٰ کا ڈھونگ نہیں چلے گا ۔ ایکٹیو پاکستان فرسٹ سول سوسائٹی کے چیئرمین عرفان میمن نے کہا کہ پاکستانی قوم ایک اور ریمنڈڈیوس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ملک کو درپیش سنگین چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قومی حکومت وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی قائم ہو اور ہم اپنے فیصلہ کسی دباؤ کے بغیر خود کرسکیں۔ ملک میں قانون کو اتنا مضبوط ہونا چاہئے کہ کوئی اسے توڑنے کی جرات نہ کرسکے۔ سی پیک کو روکنے کیلئے سازشوں کا جال بچھایا جارہا ہے جس کا مقابلہ کرنے کیلئے قومی ہم آہنگی ناگزیر ہوچکی ہے۔ ماہر معاشیات شاہدہ وزارت نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی اقوام عالم میں پاکستان کے وقار کا معاملہ ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے عافیہ کی واپسی کیلئے ملنے والے مواقع بار بار ضائع کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ معصوم عافیہ اور قاتل ریمنڈڈیوس اور قاتل کرنل جوزف کا کوئی موازنہ تو نہیں ہے مگر ’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘ کی مصداق اب قدرت نے عافیہ کی واپسی کیلئے کرنل جوزف کی صورت میں ایک اور موقع عطا کردیا ہے تو اسے ہرگز ضائع نہیں کیا جانا چاہئے۔ ہومین رائٹس نیٹ ورک کراچی کے صدر انتخاب عالم سوری نے کہا کہ 2010 میں ریمنڈ ڈیوس کو فرار کرایا گیا تھا۔ پانچ سال قبل فروری 2013 ء میں کرنل جوزف کی طرح کا ایک واقعہ پیش آیا تھا جب امریکی سفارتخانے کی ایک گاڑی نے اسلام آباد میں ٹریفک سگنل توڑ کر ایک پاکستانی سرکاری ملازم کو کچل کر شہید اور اس کے دوست کو شدید زخمی کردیا تھامگر کوئی کاروائی نہیں کی گئی تھی کیونکہ قاتل امریکی تھا۔ اب ایک اور امریکی نے ایک اور پاکستانی کو شہید کردیا ہے۔ اس موقع پر سیاسی قیادت کی خاموشی شرمناک ہے، صرف امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور سینیٹر مشتاق احمد خان نے سینیٹ میں تحریک التواء جمع کراکے قومی فریضہ ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ قوم امریکی قاتل کرنل جوزف کو ریمنڈڈیوس کی طرح فرار نہیں ہونے دے گی۔ معصوم عافیہ کی واپسی کے بغیر قوم کوئی فیصلہ قابل قبول نہیں ہوگا۔مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ، سندھ کے امیر عنایت اللہ فاروقی نے کہا کہ امریکی قاتل کرنل جوزف کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کی جائے کیونکہ اس نے اشارہ توڑ کر عتیق بیگ کو اپنی گاڑی کے نیچے کچل دیا تھا۔ حکومت پاکستان کرنل جوزف کے مستقبل کا فیصلہ ملک کے وقار کے مطابق کرے۔ مجرم کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے۔یہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا ایک اور موقع ہاتھ آیا ہے جسے کسی قیمت پر ضائع نہ کیا جائے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائننگ ہینڈ کی چیئرپرسن سبین میمن، آغوش ٹرسٹ کی صدر شگفتہ صباء اور وارثی انٹرنیشنل کی صدر مریم بیگ نے کہا کہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام ڈاکٹر عافیہ کی باعزت وطن واپسی کے منتظر ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ اس وقت ملک میں فیصلہ کرنے والی قوتیں امریکی قاتل کرنل جوزف کے معاملے کو حل کرنے کیلئے عافیہ کی وطن واپسی کے معاملے کو اپنے ایجنڈے میں سرفہرست رکھیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

گیس کے بلوں کے ذریعے لوٹ مار ۔۔۔ کالم نگار : صوفی محمد ضیاء شاھد ۔ سینیئر جرنلسٹ ،کالم نگار ۔

ماہ فروری 2026کو جاری ہونے والا جنوری 2026 کا گیس کا بل ۔ ایک مزدور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے