کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) چیئرمین فشر مینز کوآپریٹو سوسائٹی عبدالبر کی جانب سے سوسائٹی کے مفاد میں اٹھائے جانے والے جرات مندانہ اقدامات پر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں کھل کر تعریف، کراچی فش ہاربر پر صفائی مہم میں مدد کرنے پر ڈپٹی کمشنر ویسٹ کا شکریہ، کراچی فش ہاربر پر ترقیاتی کاموں، چھوٹی کشتیوں کے لیے علیحدہ جیٹی کی فوری تعمیر کے آغاز سمیت اہم فیصلے کر لیے گئے، ڈائریکٹرز نے سوسائٹی اور ماہی گیروں کے مفاد میں پرائیویٹ پارٹنر شپ سمیت اہم فیصلوں کا اختیار چیئرمین کو سونپ دیا۔تفصیلات کے مطابق فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا آٹھواں اجلاس جمعرات کے روز کراچی فش ہاربر کے بورڈ روم میں چیئرمین فشر مینز کو آپر یٹو سوسائٹی عبدالبر کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں وائس چیئرمین ابوذر ماڑی والا، ایم ڈی کراچی فش ہاربر اتھارٹی حاجی احمد، اسسٹنٹ رجسٹرار ساجد سوریو، ڈائریکٹرز آصف اقبال بھٹی، حاجی عبدالروف ابراہیم، ڈاکٹر یوسف، حنیف لاڑا، وڈیرہ حبیب اللہ، عمر ہاشمی، آصف مقصود اور سید وقاص احمد نے شرکت کی۔ اجلاس میں چھوٹی کشتیوں کے لیے علیحدہ جیٹی کی فوری تعمیر کے لیے 2 کروڑ روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی تاکہ چھوٹی جیٹی کی فوری تعمیر کا آغاز ہو سکے اور چھوٹی کشتیوں کے ماہی گیروں کو جلد سہولت فراہم کی جا سکے۔ اجلاس میں ماہی گیر آبادیوں میں علاج معالجہ کی سہولیات کو بہتر بنانے اور ڈسپینسریوں کو مزید فعال بنانے کے لیے پانچ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو کنٹریکٹ پر بھرتی کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا۔ جبکہ ماہی گیر مریضوں کو ہسپتال لانے لے جانے کے لیے ایمبولینس سروس بھی شروع کی جائے گی۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں سوسائٹی کی ترقی کے لیے اٹھائے جانے والے جرات مندانہ اقدامات پر چیئرمین عبدالبر کی تعریف کی گئی اور ماہی گیروں اور سوسائٹی کی ترقی کے لیے کسی بھی گروپ کے ساتھ جوائنٹ ایڈونچر کے فیصلے کا اختیار چیئرمین عبدالبر کو دے دیا گیا۔ کراچی فش ہاربر میں صفائی ستھرائی، نکاسی آب، سڑکوں کی مرمت سمیت اہم اقدامات تمام اسٹک ہولڈرز باہمی تعاون کے ساتھ تمام مسائل حل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں دیگر اہم نوعیت کے فیصلوں کی منظوری بھی دی گئی۔اور توقع ظاہر کی گئی کہ چیئرمین عبدالبر کی جانب سے اٹھائے جانے والے جرات مندانہ اقدامات سے فشر مینز کوآپریٹو سوسائٹی دن دگنی رات چگنی ترقی کرے گی۔ جس کا فائدہ تمام ماہی گیروں کو ہوگا۔
![]()